Monday, September 30, 2013

مکتوب اول قسط ۱۱

 

 مرتبہ دوم

باز عروج واقع شُد مقاماتِ مشائخِ عظام و آئمہ اہل بیت و خلفاءِ راشدین و مُقامِ خاصہ حضرتِ رسالت پناہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و علیہم وسلم وبارک و ھمچنین مقامات سائرِ انبیاء و رُسُل علیٰ التفاوت و مقاماتِ ملائکہ مَلَاْ اَعلیٰ فوقِ محدِّد مشہود گشت و فوق محدِّد آن مقدار عروج واقع شد کہ از مرکزِ خاک تا محدّد یا اندکے کمتر ازیں و تا مقامِ حضرتِ خواجہ نقشبند قدس اللہ تعالیٰ سرّہ الاقدس منتہی شد و فوقِ آن مقام چندے از مشائخ بودند بلکہ در ھمان مقام بافوقیت قلیلہ مثل شیخ معروف کرخی و شیخ ابوسعید خراز و باقی مشائخ بعضی در تہ آن مقام مقامات داشتند و بعضی در ھمان مقام بودند اما در تحت مثل شیخ علاو الدولہ و شیخ نجم الدین کُبریٰ و فوقِ آن مقام آئمہ اہل بیت بودند و فوقِ آن خلفائ راشدین رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین ومقاماتِ سائر انبیاء علی نبینا و علیھم الصلوٰۃ والسلام یک طرف علحدہ از مقامِ آن سرور بود و ھمچنین مقاماتِ ملائکہ عالین صلوات اللہ و سلامہ علی نبینا علیھم اجمعین در طرفِ دیگر جُدا ازان مقام بود امّا مقامِ آنسرور از جمیع مقامات فوقیت و سروری بود واللہ سبحانہ اعلم بحقائق الامور کلھا و ھرگاہ میخواھم بعنایت اللہ سبحانہ عروج واقع میشوَّد و در بعضی اوقات بیخواست ھم واقع میشوَّد و چیزی دیگر ھم دیدہ می شوَّد بر بعضی عروجات آثار ھم مُتَرتّب می شوَّد و اکثر چیز ھا فراموش می شوَّد و ہر چند میخواھم کہ بعضی حالات را بنویسم کہ در وقتِ عرضداشت کردن بیاد آید  مُیَّسر نمی شَوَّد زیراکہ در نظر محقَّر مے در آید جائے آن دارد کہ ازآن استغفار کردہ شوَّد چہ جائے آنکہ بنویسد در اثناءِ اِملاءِ عریضہ ھم بعضی چیزھا بیاد بود تا آخر وفا نکرد کہ نوشتہ شوَّد زیادہ گستاخی نہ نمود حالِ ملا قاسم علی بہتر است غلبہِ اِستہلاک و استغراق است و از جمیع مقاماتِ جذبہ بفوق قدم نہادہ و صفات را کہ اول از اصل می دید حالا باوجودِ آن صفات را از خود جدا می بیند و خود را خالیِ محض می یابد بلکہ نورے کہ صفات قائم باویند نیز از خود جدا می بیند و خود را ازان نور در طرفِ دیگر مے یابد و احوالِ یارانِ دیگر ھم روز بروز در بہی است در عرضداشتِ دیگر انشاء اللہ العزیز بتفصیل عرضداشت خواھد کرد

ترجمہ: پھر عروج واقع ہوا  مشائخِ عظام رح اور اہلبیت کے آئمہ ع اور خلفائے راشدین رض کے مقامات اور خاص حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام اور ایسے ہی تمام انبیاء و رسل ع کے مقامات درجات کیساتھ اور مَلَّا اعلیٰ کے فرشتوں کے مقامات عرش کے اوپر مشاھدہ میں آئےاس قدر بالائے عرش عروج واقع ہوا کہ فرش سے عرش تک یا کمترین سے حضرت خواجہ نقشبند رح تک انتہاء ہوئی اور اس مقام سے اوپر کچھ مشائخ تھے اور وہ چند ہی تھے جو فوق تھے جیسے شیخ معروف کرخی رح اور شیخ ابوسعید خزاررح اور باقی تمام مشائخ انہی کے نیچے اپنے اپنے مقامات پر ہیں اور بعض انہی کے مقام پر جیسے شیخ علاو الدولہ رح اور شیخ نجم الدین کُبریٰ رح اور ان سے اوپر آئمہِ اہل بیت ع کا مقام ہے اور ان سے اوپر خلفائے راشدین رض اور تمام انبیاء کرام ع کے مقامات، ان سب سے ایک الگ سمت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امتیازی مقام تھآ اور اسی طرح ایک دوسری سمت میں اس مقام سے جدا فرشتوں کے مقامات تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقام ان تمام مقامات سے بڑھ کر اور ان سب پر سردار مقام تھا اور اللہ تمام اشیاء کی حقیقت کو اچھی طرح جانتا ہے اور میں جس طرف چاہتا ہوں خدا کے فضل سے عروج واقع ہوجاتا ہے اور بعض دفعہ تو چاہے بغیر بھی ہوجاتا ہے اور کچھ اور چیزیں دیکھنے میں آتی ہیں۔بعض دوسرے احوال بھی ترتیب دئیے جارہے ہیں لیکن کافی چیزون کو بھلا دیا جاتا ہوں اور جس قدر چاہتا ہوں کہ بعض حالات کو لکھوں خط لکھتے وقت یاد آتے ہیں تب ممکن نہیں ہوتا کہ انہیں لکھا جائے کیونکہ میری نظر میں حقیر ہوجاتے ہیں بات تو یہ ہے کہ ان سے توبہ کرنی چاہئیے نا کہ انہیں لکھا جائےلکھواتے ہوئے بعض چیزوں کا عریضہ بھی یاد تھا لیکن آخر تحریر تک یادداشت نے وفا نا کی زیادہ گستاخی نہیں کرتا۔ ملا قاسم علی کا حال بہتر ہے استغراق و استہلاک کا اس پر غلبہ ہے تمام مقامات سے بالا اس نے قدم رکھا ہے اور صفات کو کہ اصل دیکھتا تھا لیکن اب ان صفات کا وجود خود سے الگ دیکھتا ہے اور خود کو مطلق خالی پاتا ہے بلکہ ایک نور کہ اس سے صفات قائم ہیں نیز اسکو بھی خود سے جدا دیکھتا ہےاور خود کو ایک دوسری سمت کے نور میں پاتا ہے اور دوسرے یاروں کے حالات بھی روزبروز مائل بترقی ہیں بندہ دوسرے خط میں انکا انشاء اللہ حال تحریر کرے گا۔

 شرح

سلوک میں اہل اللہ کے دو ۲ طرح کے مقام ہوتے ہیں پہلا مقام عروج ہے اور دوسرا مقامِ نزول ہے مقامِ عروج یہ ہے کہ انسان بشری صفات سے الگ ہوکر ملکی اور قُدسی صفات  کا لبادہ پہن لے اور وہ عالمِ ملکوت وغیرھا میں سیر کرے اس کو سیر اِلیٰ اللہ وَ فِی اللہ کہتے ہیں۔
مقامِ نزول یہ ہے کہ انسان صفاتِ بشریہ سے الگ ہونے کے بعد دوبارہ صفاتِ بشریہ کا لبادہ اوڑھ کر دوسرے لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دینے کے لئے واپس لوٹ آئے اس کو سیر عَن اللہ باللہ کہتے ہیں۔

بینہ ۱۴

صُوفیاء کے نزدیک اجسامِ لطیفہ اور ارواحِ نفیسہ کا اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی رُوحانی قوت سے آسمانوں اور عرش و فرش کی طرف سیر و پرواز کرنا اور عالمِ مثال وغیرھا کی مخلوق سے ملاقات کرنا بمطابق ارشادِ باری تعالیٰ لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَن طَبَقٍۢ [۱](ترجمہ:کہ تم درجہ بدرجہ (رتبہٴ اعلیٰ پر) چڑھو گے) اور بمطابق حدیثِ معراج ایک ایسی حقیقتِ ثابتہ ہے جو محتاجِ دلیل و وضاحت نہیں تاہم چند شواہد بطورِ تائید ہدیہ قارئین ہیں تاکہ نفسِ مسئلہ سمجھنے میں آسانی رہے وَاللہُ الْمُوَفِّق۔

چند شواھد

مذھبی شواھد

واقعہ معراج کے ضمن میں حافظ ابنِ کثیر رحمۃ اللہ علیہ رقمطراز ہیں۔ ثُمَّ لَقِیَ اَرْوَاحَ الْاَنْبِیَاءِ فَاثْنَوْا عَلیٰ رَبِّھِمْ [۲](ترجمہ: پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معراج کی رات انبیاء کی ارواح سے ملاقات فرمائی اور ان ارواح نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی)

سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا

لَقِیْتُ اِبْرَاھِیْمَ لَیْلَۃََ اُسْرِیَ بِیْ فَقَالَ یَامُحَمَّدُ اِقْرَءُ اُمَّتَکَ مِنِّی السَّلَامَ وَاَخْبِرْھُمْ اَنَّ الْجَنَّۃَ طَیِّبَۃُ التُّرْبَۃِ عَذْبَۃُ الْمَآءِ وَاِنَّھَا قَیْعَانُُ وَاِنَّ غِرَاسَھَا سُبُحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ واللہُ اَکْبَرُ [۳]
(ترجمہ: معراج کی رات میری ملاقات ابراھیم ع سے ہوئی انہوں نے فرمایا اپنی اُمت کو میرا سلام پہنچائیں اور انہیں بتائیں کہ جنت کی مٹی پاک ہے اور پانی میٹھا ہے صاف اور ہموار میدان ہے اس میں باغ لگانے والے یہ کلمات ہیں
سُبُحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ واللہُ اَکْبَرُ )

نیز ارشاد فرمایا

مَرَرْتُ عَلیٰ مُوْسیٰ فَقَالَ مَا فَرَضَ اللہُ لَکَ عَلیٰ اُمَّتِکَ قُلْتُ فَرَضَ خَمْسِیْنَ صَلٰوۃََ [۴](ترجمہ: یعنی پس موسیٰ ع پر میرا گزر ہوا انہوں نے پوچھا اللہ تعالیٰ نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا (روزانہ)پچاس نمازیں فرض کی گئی ہیں۔)

رَاَیْتُ جَعْفَرْا یَطِیْرُ فِی الْجَنَّۃِ مَعَ الْمَلائِکَۃِ [۵](ترجمہ: میں نے جعفر طیار رض کو جنت میں فرشتوں کیساتھ اڑتے دیکھا)

ایک اور حدیث میں آیا ہے

قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَرْتُ لَیْلَۃََ اُسْرِیَ بِیْ بِرَجُلِِ مُغِیْبِِ فِیْ نُوْرِ الْعَرْشِ [۶](حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ معراج کی رات میرا ایسے شخص پر گزر ہوا جو عرش کے نور میں پوشیدہ تھا)

حضرت کعب بن مالک رض اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اِنَّمَا نِسْمَۃُ الْمُوْمِنِ طَائِرُُ [۷](ترجمہ: مومن کی روح پرندہ ہے جہاں چاہے چلی جاتی ہے)

آخر میں حضرت شیخ ابوالحسن رفاعی رحمۃ اللہ علیہ کے قول پر اِکتفا کیا جاتا ہے قَالَ الشَّیْخُ اَبُوْ الْحَسَنِ الرَّفَاعِیُّ صَعِدْتُّ فِیْ الْفَوْقَانِیَّاتِ الیٰ سَبْعِمِائَۃِ اَلْفِ عَرْشِِ فَقِیْلَ لِیْ اِرْجِعْ لَاوُصُوْلَ لَکَ اِلیٰ الْعَرْشِ الَّذِیْ عُرِجَ بِہ مُحَمَّدُُ صلَّی اللہُ علیہ وسَلَّمَ [۸] (حضرت ابو الحسن رفاعی رح نے کہا کہ میں روحانی طور پر عالمِ بالا کیطرف عروج کرتا رہا یہاں تک کہ سات لاکھ عرش سے گزر گیا پھر مجھے کہا گیا واپس لوٹ جا جس عرش پر سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہوئی تو وہاں تک نہیں پہنچ سکتا)

دنیائے اثیر کے شواہد

عصرِ حاضر میں سائنسدانوں کے نزدیک دنیائے اثیر (کاسمک یا آسٹرل ورلڈ) ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ مذھبی نقطہِ نظر سے اس کو عالمِ مثال کہہ لیجئیے۔
دراصل عالمِ اثیر کائنات کا دماغ ہے جس میں ازل سے ابد تک تمام تصاویر اصوات و اقوال و افعال و اعمال محفوظ ہیں غالبًا قرآن مجید میں اسی کی طرف اشارہ ہے
وَكُلُّ شَىْءٍۢ فَعَلُوهُ فِى ٱلزُّبُرِo وَكُلُّ صَغِيرٍۢ وَكَبِيرٍۢ مُّسْتَطَرٌ [۹](ترجمہ: اور جو کچھ انہوں نے کیا، (ان کے) اعمال ناموں میں (مندرج) ہے (یعنی) ہر چھوٹا اور بڑا کام لکھ دیا گیا ہے)

دنیائے اثیر کے محققین کا خیال ہے کہ عالمِ اثیر کے متعلق حسّاس دماغ جب چاہیں انکشافات حاصل کرسکتے ہیں ارواح سے رابطہ قائم کرسکتے ہیں ان سے باتیں کرسکتے ہیں ایک پادری لیڈبیٹر نے اپنی کتاب Invisible Helper میں ایک عورت مسز پالیٹر کا ذکر کیا ہے جو خود کو بے ھوش کرکے ارواح کو بلاتی تھی اور بچھڑے ہوئے عزیز و اقارب سے ملاقات کرتی اور کرواتی تھی۔

بابا گورونانک کے متعلق عام لوگوں نے مشہور کررکھا ہے کہ وہ بیک وقت لاھور اور کعبہ میں موجود ہوتے تھے بلکہ آج کل تو عام لوگ بھی جسمِ لطیف میں گھومنے پھرنے کے دعویدار ہیں۔ ۱۹۰۷ء میں انگلستان کے ایک اخبار میں سوال اٹھا تھا کہ کیا کسی شخص نے جسمِ لطیف میں سفر یا پرواز کی ہے؟ دو عورتوں نے اعترافی جواب دیا کہ ہمیں یہ طاقت حاصل ہے  ان کے نام تھے مسز بی ای بلیر اور اے ولیم
یہ سوال و جواب پاکستان ٹائمز کی اشاعت ۱۲ اکتوبر ۱۹۵۷ء میں بھی شائع ہوئے تھے۔[۱۰]

بینہ ۱۵

قابلِ غور امر یہ ہے کہ اگر مادیت زدہ افراد سائنسی اِرتقا کے بل بوتے پر اور مختلف مشقوں اور ریاضتوں کے ذریعے اس قسم کے کمالاتِ لطیفہ کا مظاہرہ کرسکتے ہیں تو اہل روحانیت ایمانی سائنس کی روشنی میں مختلف عبادتوں اور مجاہدوں کے ذریعے کمالاتِ عجیبہ اور کراماتِ نفیسہ کا ان سے بڑھ کر مظاہرہ کیوں نہیں کرسکتے؟ جب کہ اُنہیں تائیدِ ربانی بھی حاصل ہوتی ہے ، تو پھر انبیاء کرام  علیہم الصلوٰت و التسلیمات اور اولیائے عظام علیہم الرحمۃ سے بطور معجزہ و کرامت اس قسم کے کمالات ظاہر ہونے کا انکار کیسے ہوسکتا ہے؟
بحمدہ تعالیٰ حضرت امام ربانی قدس سرّہ النورانی کے ارشاداتِ عالیہ نصّاً و قیاساً، حکماً و اجتہادًا، روایتاً و درایتًا ، عقلاً و نقلاً مبنی بر حق و صواب ثابت ہوئے اللہ تعالیٰ سے التجا ہے کہ وہ سمجھنے اور ماننے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
___________________________________________________________________________________
۱۔ الانشقاق ۱۹
۲۔ تفسیر ابنِ کثیر ص ۳۱ ج ۳
۳۔ ترمذی ص ۱۸۴ ج ۲
۴۔ مشکوٰۃ المصابیح ص ۲۰۲
۵۔ ترمذی ۲۱۸ ج ۲
۶۔ زرقانی ص ۱۰۶ ج ۶
۷۔ نسائی ص ۲۳۶ ج ۱
۸۔ النبراس ۲۹۵
۹۔ القمر ۵۲، ۵۳
۱۰۔ رمز الایمان

Sunday, September 29, 2013

مکتوب اول قسط ۱۰

 

مرتبہ اوّل 

کہ عروج واقع شد بعد از طَی مسافت چون بر فوقِ محدِّد رسید دارِ خُلد ازنجا بما تحت مشہود گشت دراں اثناء بخاطر آمد کہ مقاماتِ بعضی مردم را در آنجا مشاھدہ نمایم چون متوجہ شدم مقاماتِ آنہا در نظر آمد و آن اشخاص را نیز دران مجال وید علی تفاوت درجاتھم مکانًا و مکانۃً و شوقاً و ذوقاً

ترجمہ: کہ سفر طے کرنے کے بعد عروج واقع ہوا جب عرش سے اُوپر پہنچا تو وہاں سے جنت نیچے کیطرف نظر آئی اسی دوران دل میں آیا کہ بعض حضرات کے مقامات کا وہاں سے مشاہدہ کروں بس جب میں متوجہ ہوا تو انکے مقامات نظر آنے لگے اور وہ حضرات بھی اپنے اپنے مقام پر اپنے اپنے درجات کیساتھ اور ذوق اور شوق کیساتھ  ۔

شرح

حضرت امام ربانی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ جب مجھے پہلی بار فوق العرش عروجِ روحانی نصیب ہوا تو میں نے جنّت کو عرش کے نیچے دیکھا۔ آپکا یہ کشف و شہود  فرمانِ نبوی علیٰ صاحبہَا الصلوات کے عین مطابق ہے۔
حدیث میں ارشاد ہے۔ سَقْفُھَا عَرْشُ الرَّحْمَانِ [۱](ترجمہ: عرش جنت کا چھت ہے)
اسی طرح حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے۔
اَلْجَنَّۃُ فَوْقَ السَّمٰوَاتِ تَحْتَ الْعَرْشِ [۲](ترجمہ: جنت آسمانوں کے اوپر عرش کے نیچے ہے)
 اور اسی پر اکثریت کا اتفاق منقول ہے۔

بینہ ۱۳

واضح رہے کہ حضرت امام ربانی قدس سرہُ العزیز کے مکشوفات اور مشاہدات علومِ شرعیہ کے عین مطابق ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نسبتِ مجددیہ میں اِتباعِ شریعت اور التزامِ سُنّت کا لحاظ غالب ہے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ عالمِ امر کے پانچوں لطائف کا وطنِ اصلی عرش کے اوپر ہے لہٰذا حکمائے یونان کا یہ قول کہ "عرش سے اوپر کچھ نہیں" باطلِ محض ہے۔

Saturday, September 28, 2013

مکتوب اول کامل متن و ترجمہ

عرضداشت


کمترینِ بندگان احمد بِذروہ عرض میرساند حسب الامر الشریف گستاخی مینماید و احوالِ پریشانرا معروض میدارد کہ در اثنائے راہ آنقدر بتجلی اسم الظاہر متجلی گشت کہ در جمیعِ اشیاء بتجلی خاص علٰحِدہ علٰحِدہ ظاہر گشت علیٰ الخصوص در کِسوتِ نساء بلکہ در اَجزاءِ اینہا جُدا جُدا و آنقدر مُنقادِ اینطائفہ گشتم کہ چہ عرض نمایم و دریں اِنقیاد مضطر بودم ظہوریکہ درین کِسوت بودہ ھیچ جا نبودہ  خصوصیاتِ لطائف و محسناتِ عجائب کہ دریں لباس مینمودہ از ھیچ مظہری ظاہر نمیشدہ پیشِ ایشاں تمام گداختہ آب شدہ میرفتم وھمچنین در ھر طعامی و شرابی در کسوتی جُدا جُدا متجلی شد لطافتی و حُسنی کہ در طعامِ لذیذ پُرتکلف بود در ماوراءِ آن نبود و در آبِ شیریں تا آبِ غیر شیریں ھمیں تفاوت بود بلکہ در ھر لذیذ و شیریں یک خصوصیتِ کمال علیٰ تفاوُت الدَرَجات جُدا جُدا بود خصوصیات این تجلی را بتحریر بعرض نمیتواند رسانید اگر در ملازمت عَلِیّہ می بود شاید معروض میداشت اَمّا در اَثناءِ این تجلیّات آرزوی رفیقِ اعلیٰ داشتم وماینہا مَھّمَا امْکن ملتفت نمیشدم امّا مغلوب بودم چارہ نداشتم دریں اثناء معلوم شد کہ ایں تجلی بآن نسبتِ تنزیہی جنگ ندارد وباطن ھمچنان گرفتارِ آن نسبت است بظآھر اصلاً مُلتفت نیست و ظاہر را کہ ازاں نسبت خالی و معطل بود باین تجلی مشرف ساختہ اند و الحق ھمچنان یافتم کہ باطن اصلاً بزیغ بصر مبتلا نیست و از جمیع معلومات و ظہورات مُعرض است و ظاہر کہ متوجہ کثرت و اثنینیۃ بود باین تجلیّات مستعد گشتہ است بعد از چندگاہ این تجلیات رُو بخفا آوردند ھمان نسبتِ حیرت و نادانی بحالِ خود ماند و صَارَت تلک التجلیاتُ کاَنْ لم یکن شیئا مذکورا و بعد ازان یک فناءِ خاص روداد و ھمانا کہ آن تعین علمی کہ بعد از عَود تعین پیدا شُدہ بود درین فنا گم شد و اَثَرے از مَظانِ انا نماند۔ دریں وقت آثارِ اسلام و علاماتِ انہدامِ معالمِ شرکِ خُفی بظہور آمدن گرفتند و ھمچنین دیدِ قصورِ اعمال و متہم داشتن نیات و خواطر بالجملہ بعضے امارات عبودیت و نیستی ازاں باز ظاہر گشتہ اند حق سبحانہ و تعالیٰ بہ برکتِ توجہ حضرتِ ایشاں بحقیقتِ بندگی رساند و عروجات بر فوقِ محدّدِ بسیار واقع میشوَّد 

مرتبہ اول

کہ عروج واقع شد بعد از طَی مسافت چون بر فوقِ محدِّد رسید دارِ خُلد ازنجا بما تحت مشہود گشت دراں اثناء بخاطر آمد کہ مقاماتِ بعضی مردم را در آنجا مشاھدہ نمایم چون متوجہ شدم مقاماتِ آنہا در نظر آمد و آن اشخاص را نیز دران مجال وید علی تفاوت درجاتھم مکانًا و مکانۃً و شوقاً و ذوقاً

مرتبہ دوم

باز عروج واقع شُد مقاماتِ مشائخِ عظام و آئمہ اہل بیت و خلفاءِ راشدین و مُقامِ خاصہ حضرتِ رسالت پناہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و علیہم وسلم وبارک و ھمچنین مقامات سائرِ انبیاء و رُسُل علیٰ التفاوت و مقاماتِ ملائکہ مَلَاْ اَعلیٰ فوقِ محدِّد مشہود گشت و فوق محدِّد آن مقدار عروج واقع شد کہ از مرکزِ خاک تا محدّد یا اندکے کمتر ازیں و تا مقامِ حضرتِ خواجہ نقشبند قدس اللہ تعالیٰ سرّہ الاقدس منتہی شد و فوقِ آن مقام چندے از مشائخ بودند بلکہ در ھمان مقام بافوقیت قلیلہ مثل شیخ معروف کرخی و شیخ ابوسعید خراز و باقی مشائخ بعضی در تہ آن مقام مقامات داشتند و بعضی در ھمان مقام بودند اما در تحت مثل شیخ علاو الدولہ و شیخ نجم الدین کُبریٰ و فوقِ آن مقام آئمہ اہل بیت بودند و فوقِ آن خلفائ راشدین رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین ومقاماتِ سائر انبیاء علی نبینا و علیھم الصلوٰۃ والسلام یک طرف علحدہ از مقامِ آن سرور بود و ھمچنین مقاماتِ ملائکہ عالین صلوات اللہ و سلامہ علی نبینا علیھم اجمعین در طرفِ دیگر جُدا ازان مقام بود امّا مقامِ آنسرور از جمیع مقامات فوقیت و سروری بود واللہ سبحانہ اعلم بحقائق الامور کلھا و ھرگاہ میخواھم بعنایت اللہ سبحانہ عروج واقع میشوَّد و در بعضی اوقات بیخواست ھم واقع میشوَّد و چیزی دیگر ھم دیدہ می شوَّد بر بعضی عروجات آثار ھم مُتَرتّب می شوَّد و اکثر چیز ھا فراموش می شوَّد و ہر چند میخواھم کہ بعضی حالات را بنویسم کہ در وقتِ عرضداشت کردن بیاد آید  مُیَّسر نمی شَوَّد زیراکہ در نظر محقَّر مے در آید جائے آن دارد کہ ازآن استغفار کردہ شوَّد چہ جائے آنکہ بنویسد در اثناءِ اِملاءِ عریضہ ھم بعضی چیزھا بیاد بود تا آخر وفا نکرد کہ نوشتہ شوَّد زیادہ گستاخی نہ نمود حالِ ملا قاسم علی بہتر است غلبہِ اِستہلاک و استغراق است و از جمیع مقاماتِ جذبہ بفوق قدم نہادہ و صفات را کہ اول از اصل می دید حالا باوجودِ آن صفات را از خود جدا می بیند و خود را خالیِ محض می یابد بلکہ نورے کہ صفات قائم باویند نیز از خود جدا می بیند و خود را ازان نور در طرفِ دیگر مے یابد و احوالِ یارانِ دیگر ھم روز بروز در بہی است در عرضداشتِ دیگر انشاء اللہ العزیز بتفصیل عرضداشت خواھد کرد

مکتوب اول قسط ۹ کی تشریح

 

فنا اور بقا کا مفہوم

اَلْفَنَاءُ عَدَمُ رُوْیَۃِ الْعَبْدِ لِفِعْلِہ بِقِیَامِ اللہِ عَلیٰ ذَالِکَ وَ الْبَقَاءُ رُوْیَۃُ الْعَبْدِ قِیَامُ اللہِ عَلیٰ کُلِّ شَیْی ءِِ[۱]
(ترجمہ: فنا یہ ہے کہ بندہ ذاتِ حق کے قیام اور غلبہ کے سبب اپنے فعل کو نہ دیکھے اور بقا یہ ہے کہ ہر چیز پر ذاتِ حق کا قیام اور غلبہ مشاھدہ کرے)

بینہ ۱۱

کثرتِ اذکار و نوافل و اِتباعِ سُنّت و شریعت کے التزام کے بعد محض عنایتِ خداوندی سے سالک کو مَاسویٰ اللہ کا ایسا نسیان ہوجاتا ہے اور اس پر ذاتِ حق تعالیٰ کا یہاں تک غلبہ ہوجاتا ہے کہ سالک استغراق فیی الربوبیّت کی لذّت سے آشنا ہوکر اپنے آپ کو اسی کے حوالے کردیتا ہے۔
یہی مفہوم لَایَزَالُ عَبْدِیْ یَتَقَرَّبُ اِلَیَّ بِالنَّوَافِلِ [۲] (ترجمہ: جاوید ہوجاتا ہے بندہ کثرتِ نوافل سے) صوفیائے کرام فرماتے ہیں
اَوصافِ مذمومہ کا سقوط فنا کہلاتا ہے جیسا کہ اوصافِ محمودہ کا وجود بقا کہلاتا ہے (فَافُھَمْ)

حیاتِ انبیاء و اولیاء

جب بندگانِ خاص کے لطائف ایمان و اعمالِ صالحہ کی برکت سے اپنے اصل کیطرف عُروج کرتے ہوئے عالمِ وجوب میں رسائی حاصل کرلیتے ہیں اور انہیں محض عنایتِ ایزدی کے ساتھ فنا و بقا سے مشرف کیا جاتا ہے اور ان کو اسماء و صفات اور ذات کی تجلیات سے وجودِ موہوبِ حقّانی ہوتا ہے تو بمطابق آیۃ کریمہ مَنْ عَمِلَ صَـٰلِحًۭا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌۭ فَلَنُحْيِيَنَّهُۥ حَيَوٰةًۭ طَيِّبَةًۭ [۳](ترجمہ:جو شخص نیک اعمال کرے گا مرد ہو یا عورت وہ مومن بھی ہوگا تو ہم اس کو (دنیا میں) پاک (اور آرام کی) زندگی سے زندہ رکھیں گے)
انہیں پاکیزہ زندگی عطا کی جاتی ہے اور وہ زندہ جاوید ہوجاتے ہیں ان کے لطائفِ حیاتِ دائمی سے سرفراز ہوجاتے ہیں اور ان کے اجسام بربنائے لطافت ارواح کے مرتبوں پر فائز ہوجاتے ہیں اور وہ تا قیامت اپنی قبور میں زندہ و سلامت رہتے ہیں۔
حضرت قاضی ثناء اللہ مجدّدی تحریر فرماتے ہیں کہ یہ حکم شہداء کے ساتھ خاص نہیں کیونکہ انبیاء اور صدیقین ان سے زیادہ بلند مرتبوں والے ہیں جیسا کہ حدیث پاک میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔
اِنَّ اللہَ حَرَّمَ عَلیَ الْاَرْضِ اَنْ تَاکُلَ اَجْسَادَ الْاَنْبِیَاءِ فَنَبِیُّ اللہِ حَیُُّ یُرْزَقُ [۴](ترجمہ: خدا نے زمین پر انبیائے کرام ع کے اجسام کو کھانا حرام فرما دیا ہے پس خدا کے نبی زندہ ہوتے ہیں اور رزق دئیے جاتے ہیں۔)
حدیثِ مذکور کے مطابق انبیاء کے اجسام گلنے سڑنے اور ضائع ہونے سے محفوظ ہوجاتے ہیں اور انہیں قبروں میں کھانے پینے والی زندگی عطا ہوتی ہے۔

شبِ معراج مسجدِ اقصیٰ میں انبیاء و مرسلین علیہم السلام کا اجتماع اور سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اِقتداء میں نماز ادا فرمانا اس امر پر واضح دلیل ہے کہ وہ اپنی قبروں میں جسمانی طور پر زندہ ہیں نمازیں ادا فرماتے ہیں، رزق کھاتے ہیں اور عرش و فرش پر جہاں چاہئیں تصرف فرماتے اور آتے جاتے ہیں جیسا کہ سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے۔

اَلْاَنْبِیَاءُ اَحْیَاءُُ یُصَلُّوْنَ فِیْ قُبُوْرِھِمْ [۵](ترجمہ: انبیاء اپنی قبروں میں زندہ ہوتے ہیں اور اپنی قبروں میں نمازیں پڑھتے ہیں)
نیز حدیث پاک میں ہے
مَرَرْتُ عَلیٰ مُوْسیٰ ...... وَھُوَ قَائِمُُ یُّصَلِّیْ فِیْ قَبْرِہ [۶](ترجمہ: میں نے شبِ معراج موسیٰ علیہ السلام کو اپنی قبر میں کھڑے نماز ادا کرتے دیکھا) ظاہر ہے نماز جسمانی طور پر ہی ادا ہوسکتی ہے اور یہ جسم کی صفت ہے لہٰذا قبروں میں انبیاء کی حیات "جسمانی" ہی مانی جائے گی۔ اسی طرح بعض روایات میں آیا ہے کہ عُلماء، حُفّاظ اور موذّنین کے اجسام بھی قبروں میں سالم رہتے ہیں۔ [۷]

بینہ ۱۲

واضح ہو کہ انبیاء کرام کے بارے میں تو یہ عقیدہ نصِّ حدیث سے ثابت ہے کیونکہ اولیائے کرام، انبیائے عظام کے تابع اور نائب ہوتے ہیں۔ اصولی طعر پر متبوع اور مناب کے تمام کمالات ، تابع اور نائب کو بطورِ اتباع و نیابت حاصل ہوجاتے ہیں (کَمَا لایخفیٰ علیٰ ارباب العلم)
نیز امت کے تمام اصحابِ سلوک و معرفت کا مزارات پر جانا، سلام کہنا اور ان سے سلام کا جواب سُننا، مراقبات کے ذریعے اہل قبور سے فیوض و برکات حاصل کرنا، قبریں کھلنے پر ان کے جسموں کو سلامت دیکھنا سلفِ صالحین سے لیکر آج تک روز مرہ کے معمولات ، مشاہدات و تجربات اور تاریخی واقعات سے تسلسل اور تواتر کے ساتھ عقلاً و نقلاً ثابت ہے اور اس پر اکابرینِ اُمت کا تعامل بجائے خود بمطابقِ حدیث مَارَاٰہُ الْمُوْمِنُوْنَ حَسَنًا فَھُوَ عِنْدَ اللہِ حَسَنُُ [۸](ترجمہ: جو اہلِ ایمان کو متفقہ پسند ہے وہ خدا کو بھی پسند ہے) دلیلِ شافی و سندِ کافی ہے۔ 
_________________________________________________________________________________
۱۔ کتاب التعریفات ص ۱۱۲
۲۔ صحیح بخاری ص ۹۶۳ ج ۳
۳۔ النحل ۹۷
۴۔ ابنِ ماجہ ص ۱۱۹، مشکوٰۃ ص ۱۲۱
۵۔ مسند ابویعلیٰ ص ۲۱۶ ج ۳، مجمع الزوائد ص ۲۱۴ ج ۸
۶۔ صحیح مسلم ص ۲۶۳ ج ۱، نسائی ص ۱۹۵ ج ۱
۷۔ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اِذَا مَاتَ حَامِلُ القُرْآنِ لَوْحیٰ اللہُ الْاَرْضِ اَنْ لَّاتَاْکُلِیْ لَحْمَہ قَالَتْ اِلٰھِیْ کَیْفَ اٰکَلُ اَحْمَہ وَکَلَامُکَ فِیْ جَوْفِہ۔ (کنزالعمال ص ۵۵۵ ج ۱، الدیلمی ص ۲۸۴ ج ۱ (اَلْمُوَذِّنُ) وَاِنْ مَاتَ لَمْ یُدَوَّدْ فِیْ قَبْرِہ(کنزالعمال ص ۶۸۶، الدیلمی ص ۱۹۵ ج ۴، طبرانی کبیر ص ۳۲۲ ج ۱۲))
۸۔ طبرانی کبیر ص ۱۱۳ ج ۹

Friday, September 27, 2013

مکتوب اول قسط ۹ کی تشریح

 

 بینہ ۹

فقہاء کا اجتہاد مرتبہ میں مقدم ہوتا ہے کیونکہ صوفیائے کرام فقہاء عظام کے مقلد ہوتے ہیں۔ اسکی دلیل بھی صوفیاء کا تعامل ہے لہٰذا مسائلِ شرعیہ، فقہیّہ میں علماء و فقہاء کے اقوال کو معتبر سمجھا جائے گا اور مسائلِ روحانیہ ذوقیہ و احکامِ باطنیہ میں صوفیاء کے اقوال و احوال کا اعتبار کیا جائے گا کیونکہ لِکُل فَنِِّ رِجَالُُ کے مطابق ہر فن کیلئے مخصوص افراد ہوتے ہین۔

حدیث ابُو مخدورہ

صُوفیائے کرام نے لطائف کے جن مقامات کی تخصیص و تعین فرمائی ہے اسکی تائید مین مندرجہ ذیل حدیث مبارکہ ملاحطہ ہو۔
ثُمَّ وَضَعَ یَدَہ عَلیٰ نَاصِیَۃِ اَبِیْ مَحْذُوْرَۃَ ثُمَّ اَمَرَّھَا عَلیٰ وَجْہِہ مِنْ بَیْنِ ثَدْیَیْہِ ثُمَّ اَمَرَّھَا عَلیٰ کَبِدِہ ثُمَّ بَلَغَتْ یَدُ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سُرَّۃَ اَبِیْ مَحْذُوْرَۃَ ثُمَّ قَالَ رُسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَارَکَ اللہُ لَکَ وَبَارَکَ عَلَیْکَ [۱]
ترجمہ: پھر سرورِ عالم (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابُو محذورہ کے ماتھے پر ہاتھ رکھا پھر اپنا ہاتھ مبارک ان کے چہرے پر پھیرتے ہوئے سینے پر لے گئے پھر اُن کے جگر پر لے گئے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہاتھ مبارک اُن کی ناف تک پہنچا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے دُعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ تجھے برکت دے اور تجھ پر برکت نازل فرمائے۔

بینہ ۱۰

حدیثِ مذکور سے معلوم ہوا کہ حضور علیہ السّلام نے حضرت ابُو محذورہ رضی اللہ عنہ کے سر سے لیکر ناف تک ہاتھ پھیرا اور برکت کیلئے دعا مانگی۔ اِرادی طور پر جسم کے اتنے حصے پر ہاتھ پھیرنا کسی طرح بھی حکمت سے خالی نہ تھا جیسا کہ اہل بصیرت پر ظاہر ہے جب کہ جسم کا یہی حصّہ لطائف کے مقامات کا حصہ ہے۔ بہرحال حدیث سے ان مقامات کا اہم اور متعین و متبرک ہونا ثابت ہوگیا۔ (فَھُوَ الْمُرَادْ)

لطیفہ جاری ہونیکا مطلب

کسی بھی لطیفہ میں ذکر جاری ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مُضغہ گوشت یا لطیفہ کا مقام جنبش و حرکت کرتا ہے بلکہ " حرکتِ ذکر از دل بہ سمعِ خیال برسد" (ترجمہ: ذکر کی طاقت دل سے خیال کی سماعت سے پہنچتی ہے) یعنی دل سے ذکر کی حرکت خیال کے کانوں تک پہنچتی ہے اور خیال کے کان دِل کا ذکر (لفظ اللہ کا تکرار) سُنتے ہیں۔
بعض مشائک مُبتدی کیلئے مُضغہ گوشت کی ظاہری طور پر حرکت و جنبش کو ضروری سمجھتے ہیں اور اسی طریق پر مُریدین کو ذکر القاء کرتے ہیں لیکن حقیقتُ الامر یہی ہے کہ ذکرِ قلبی وغیرہ میں مقامِ لطیفہ کی حرکت ضروری نہیں۔ حضورِ قلبی (یعنی غفلت کا نا رہنا) اور اخلاص کیساتھ اور حضور مَعَ اللہ ہی لطیفہ جاری ہونے کی ضروری علامت ہے وَھُوَ الْمَقْصُوْدُ
ہمارے مشائخ نے فرمایا
حَقِیْقَۃُ الذِّکْرِ رَفْعُ الْغَفْلَۃِ
(ترجمہ: ذکر کی حقیقت غفلت کا نا رہنا ہے)

Wednesday, September 25, 2013

مکتوب اول قسط ۹ کی تشریح

 

 بینہ ۸

واضح ہو کہ لطائفِ عالمِ امر کو کمالاتِ ولایت کے ساتھ مناسبت ہے اور لطائف عالمِ خلق کو کمالاتِ نبوت کے ساتھ زیادہ مناسبت ہے۔ عالمِ امر کے پانچوں لطیفوں میں سے ہے ایک لطیفہ کو عالمی خلق کے کسی نہ کسی لطیفہ کیساتھ مناسبت ہوتی ہے، مثلاً لطیفہ قلب کو لطیفہ نفس کیساتھ لطیفہ روح کو لطیفہ آب کیساتھ لطیفہِ سِرّ کو لطیفہ باد کیساتھ، لطیفہِ خفی کو لطیفہِ نار کیساتھ، لطیفہِ اخفیٰ کو لطیفہِ خاک کے ساتھ [۱]
نیز یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ عالمِ خلق کے لطائف عالم امر کے لطائف کی اصل ہیں اور لطیفہِ باد (ہوا) کا معاملہ لطیفہِ روح کے معاملے کی اصل ہے۔ لطیفہِ نار (آگ) کا معاملہ لطیفہِ کفی کے معاملے کی اصل ہے۔ لطیفہِ خاک (مٹی) کا معاملہ لظیفہِ اخفیٰ کے معاملے کی اصل ہے۔ [۲]

مقاماتِ لطائفِ عالمِ خلق

لطیفہِ نفس

یہ عالمِ خلق کا پہلا لطیفہ ہے سلسلہِ نقشبندیہ میں اسکا مقام وسطِ پیشانی یا اُم الدماغ ہے بعض کے نزدیک اس کا مقام زیرِ ناف ہے۔ اگرچہ بظاہر اکتلاف معلوم ہوتا ہے لیکن اربابِ عرفان کے نزدیک ابتداء اور انتہاء کا فرق ہے۔ حضرت امام ربانی مجدّد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے یوں تطبیق فرمائی ہے کہ اس کا سر اُمُّ الدماغ یا وسطِ پیشانی ہے اور اس کا قدم متصلِ زیرِ ناف ہے۔ (اہلِ کشف کے نزدیک ہر دو۲ مقام نفس کے لحاظ سے برابر ہیں) اسکا نور سبز اور نیلگوں ہے اسکی تاثیر نفسانیت اور سرکشی کے مٹ جانے، عجز و انکساری کا مادہ پیدا ہونے اور ذکر میں ذوق و شوق بڑھ جانے سے ظاہر ہوتی ہے۔

لطیفہِ قالبیہ

یہ عالم خلق کا بظاہر دوسرا لطیفہ ہے لیکن درحقیقت چاروں لطائف (ہوا، پانی، آگ اور مٹی) پر مشتمل ہے۔ اس کا مقام سارا قالب (جسم) ہے۔(بعض کے نزدیک متصلِ ناف ہے) اسکی علامت ہر جزوِ بدن اور بال بال سے ذکر کا جاری ہوجانا ہے۔اسکی تاثیر رزائلِ بشریہ اور علائقِ دنیویہ سے مکمل رہائی پالینے سے ظاہر ہوتی ہے اس کا نُور آتش نُما ہے۔[۳]

مقاماتِ لطائف کا ثبوت

لطائف کے مقامات کے تعین و ثبوت کیلئے صوفیائے فنِ طریقت کی تصریحات و تعلیمات ہی دلیل کیلئے کافی ہیں کیونکہ وہ احکامِ روحانیہ باطنیہ کے مجتہد ہوتے ہیں۔
جس طرح فقہائے مجتہدین احکامِ ظنّیہ ، ظاہرہ کا استنباط کرتے ہیں اسی طرح صوفیائے مجتہدین بھی احکامِ ظنّیہ باطنیہ کا استخراج کرتے ہیں اور جس طرح قیاس و رائے کی صحت کا میعار کتاب و سُنت کی موافقت ہے اور یہ امر بھی مُستحضر رہے کہ کشف و الہام اور فراست و بصیرت کا نُور صوفیاء و فقہاء کی برابر رہنمائی کرتا رہتا ہے جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔
أَفَمَن شَرَحَ ٱللَّهُ صَدْرَهُۥ لِلْإِسْلَـٰمِ فَهُوَ عَلَىٰ نُورٍۢ مِّن رَّبِّهِ [۴]
ترجمہ:تو کیا جس کا سینہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کیلئے کھول دیا تو وہ اپنے ربّ کی طرف سے نُور پر ہے۔
فتح الباری میں ہے۔
اِنَّمَا الْاِلْھَامُ نُوْرُُ یَختَصُّ بِہ اللہُ تَعَالیٰ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہ [۵]
ترجمہ: الہام ایک نُور ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اسکے ساتھ مخصوص فرمالیتا ہے۔
___________________________________________________________________________________
۱۔ملخصاً مکتوباتِ معصومیہ دفتر اول مکتوب ۲۱۳
۲۔مکتوباتِ معصومیہ دفتر سوئم مکتوب ۴
۳۔تفسیرِ مظہری الحدیقۃُ الندیہ، اسرارِ طریقت، عمدۃُ السلوک وغیرہ
۴۔ الزُمر ۲۲
۵۔کتاب التعریفات

Monday, September 23, 2013

مکتوب اوّل قسط ۹ کی تشریح

 

 لطائفِ عشرہ

حضرت امام ربانی قدس سرہ فرماتے ہیں انسان کی ساخت دس ۱۰ اجزاء سے ہوئی ہے ان میں سے پانچ عالمِ خلق کے اجزاء ہین اور پانچ عالمِ امر کے اجزاء ہین ان ہی اجزائے عشرہ کو لطائفِ عشرہ کہا جاتاہے۔
انسان لطائفِ عشرہ سے مرکب ہے ان میں پانچ لطائف عالمِ خلق سے ہیں جو عرش کے نیچے کی مخلوقات سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ عناصرِ اربعہ (ہوا،پانی،آگ، مٹی) اور لطیفہ نفس ہیں۔
دوسرے پانچ لطائف عالمِ امر سے ہیں جو عرش سے اُوپر کی مخلوق سے تعلق رکھتے ہیں ان کا وطنِ اصلی فوق العرش (عالمِ ارواح) ہے لیکن ان کے تعینات انسان کے جسم میں جُدا جُدا مقام رکھتے ہیں اور وہ قلب، روح، سِرّ، خفی، اخفیٰ ہیں۔
جسمِ انسانی میں یہی وہ مواضع ہیں جن پر انوار و اسرار اور فیوض و برکاتِ الٰہیہ کا نزول ہوتا رہتا ہے گویا یہ لطائف اللہ تعالیٰ تک پہنچانے کے مختلف راستے ہیں اور ہر راستہ ایک اُولوالعزم رسُول کے زیرِ قدم ہے انسانی جسم میں آکر انکی نورانیت زائل ہوگئی ہے اسلئے سالکین ذِکر کرنے کے ذریعے دوبارہ انکو نُورانی بنا لیتے ہیں۔

لطیفہ

انسان کے جسم میں محلِ نور کو لطیفہ کہتے ہیں اور اس کو نفسِ ناطقہ بھی کہتے ہیں یہ وہ جوہر ہے جو مادہ سے خالی ہوتا ہے۔ وَھِیَ الْجَوْھَرُ الْمُجَرَّدُ عَنِ الْمَادَّۃِ [۱](ترجمہ: اور یہ جوھر مادہ سے مبرا ہوتا ہے) ان لطائف کا اصلی مقام عرش کے اوپر ہے لیکن جسمِ انسانی کے ساتھ ان کا ایک لطیف تعلق قائم ہے جسکی تطہیر سے سالکین کو عالمِ امر میں روحانی سیر نصیب ہوتی ہے۔

 لطائف کے نام قُرآن میں

 صوفیائے کرام نے لطائف کے اصطلاحی نام قرآنِ حکیم سے لئے ہیں۔
مثلاً قلب، روح، سر، خفی، اخفیٰ اور نفس کا ذکر درج ذیل آیات میں ہے۔

إِنَّ فِى ذَ‌ٰلِكَ لَذِكْرَىٰ لِمَن كَانَ لَهُۥ قَلْبٌ [۲](ترجمہ: جو شخص دلِ (بیدار) رکھتا ہے یا دل سے متوجہ ہو کر سنتا ہے)
قُلِ ٱلرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّى [۳](ترجمہ: کہہ دو کہ روح میرے پروردگار کا ایک حکم ہے)
فَإِنَّهُۥ يَعْلَمُ ٱلسِّرَّ وَأَخْفَى [۴](ترجمہ: تو پھر بے شک وہ چھپے بھید اورنہایت پوشیدہ بات تک کوجانتاہے)
ٱدْعُوا۟ رَبَّكُمْ تَضَرُّعًۭا وَخُفْيَةً [۵](ترجمہ:(لوگو!) اپنے پروردگار سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو)
وَنَفْسٍۢ وَمَا سَوَّىٰهَا [۶](ترجمہ: اور انسان کی اور اس کی جس نے اس (کے اعضا) کو برابر کیا)
بینہ ۷: صوفیائے محققین کے نزدیک لطائف کے انوار میں جو اختلاف ہے وہ مکشوفات کے اعتبار سے اختلاف ہے لہٰذا لطائف کے انوار کو رنگوں کے ساتھ مخصوص و مقیّد جاننا لازمی نہیں کیونکہ مقصود، دائمی ملکہ ذکر ہے نہ کہ رنگ و نُور، البتہ اگر لطائف کے رنگ کبھی ظاہر بھی ہوں تو مضائقہ نہیں۔

مقاماتِ لطائفِ عالمِ اَمر

لطیفہِ قلب

لطیفہِ قلب کا مقام انسان کے جسم میں بائیں پستان کے نیچے دو ۲ انگشت کے فاصلے پر مائل بہ پہلو ہے اسکی فناء قلب پر اللہ تعالیٰ کی تجلی فعل کا ظہور ہے اسکی علامت ذکر کے وقت ماسویٰ اللہ کا نسیان اور ذاتِ حق کیساتھ محوّیت ہے (اگرچہ تھوڑی دیر کیلئے ہو) اسکی تاثیر رفعِ غفلت اور دفعِ شہوت کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے اسکا نور زرد ہے۔

لطیفہِ روح

اس کا مقام انسان کے سینے میں دائیں پستان کے نیچے دو انگشت کے فاصلے پر مائل بہ پہلو ہے۔ اسکی فناء روح پر اللہ تعالیٰ کی تجلی صفات کا ظہور ہے۔ اسکی علامت ذکر کے وقت کیفیاتِ ذکر (قلبی و روحی) میں اضافہ و غلبہ ہے۔ اسکی تاثیر غصّہ و غضب کی کیفیّت میں اعتدال اور طبیّعت میں اصلاح و سکون کی کیفیت کا ظہور ہے اُسکا نُور سرخ ہے۔

لطیفہِ سر

 اس کا مقام انسان کے سینے میں بائیں پستان کے برابر دو انگشت کے فاصلے پر مائل بہ وسطِ سینہ ہے اس کی فناء لطیفہِ سرّ پر اللہ تعالیٰ کی صفات کے شیونات و اعتبارات کا ظہور ہے۔
اسکی علامت ہر دو سابقہ لطیفوں کی طرح اس میں ذکر کا جاری ہونا اور کیفیات میں ترقی رونما ہونا ہے۔ (یاد رہے کہ یہ مشاہدہ اور دیدار کا مقام ہے) اس کی تاثیر طمع اور حرص کے خاتمے نیز دینی اُمور کے معاملے میں بلا تکلّف مال خرچ کرنے اور فکرِ آخرت کے جذبات کی بیداری سے ظاہر ہوتی ہے۔ اس کا نور سفید ہے۔

لطیفہِ خفی

اس کا مقام انسان کے سینے میں دائیں پستان کے برابر دو ۲ انگشت کے فاصلے پر مائل بوسطِ سینہ ہے۔ اسکی فنا صفاتِ سلبیہ تنزیھیہ کا ظہور ہے۔ اسکی علامت اس میں ذِکر کا جاری ہونا اور عجیب و غریب احوال کا ظھور ہے۔ اسکی تاثیر حسد و بخل اور کینہ و غیبت جیسی امراض سے مکمل نجات حاصل ہوجانے سے ظاہر ہوتی ہے۔ اسکا نور سیاہ ہے۔

لطیفہِ اخفیٰ

اس کا مقام انسان کے جسم میں وسطِ سینہ ہے۔ اسکی فنا مرتبہ تنزیہہ اور مرتبہِ احدیّتِ مجردہ کے درمیان ایک برزخی مرتبے کے ظھور و شہود سے وابستہ ہے اور یہ ولایتِ محمد علیٰ صاحبہَا الصلوات کا مقام ہے اس کی علامت اس میں بلاتکلف ذکر کا جاری ہونا اور قربِ ذات کا احساس و شہود ہے اسکی تاثیر تکبر، فخر و غرور اور خودپسندی جیسی مُہلک روحانی امراض سے رہائی پانے اور مکمل حضور و اطمینان کے حصول سے ظہور پذیر ہوتی ہے اسکا نُور سبز ہے۔
_______________________________________________________________________________
۱۔ کتاب التعریفات
۲۔ ق ۳۷
۳۔ بنی اسرائیل ۸۵
۴۔ طٰہٰ ۷
۵۔ الاعراف ۵۵
۶۔ الشمس ۷

Saturday, September 21, 2013

مکتوب اول قسط ۹


متن: و عروجات بر فوقِ محدّدِ بسیار واقع میشوَّد
ترجمہ: اور عرش پر بہت دفعہ عروج واقع ہوتے ہیں۔

شرح

صوفیائے طریقت کے نزدیک ارواحِ لطیفہ اور لطائفِ نفیسہ کا ذکر اسم ذات و نفی اثبات و فنائے لطائف کے بعد عرش و فوق العرش سے عالِم وجوب تک روحانی سیر و عروج فرمانا ایک ایسی حقیقتِ ثابتہ ہے جو تواتر و توارث کا درجہ رکھتی ہے اور اس امر پر کثرت سے دلائلِ شرعیہ، سمعیّہ، ذوقیہ موجود ہیں۔
آیت کریمہ تَعْرُجُ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ وَٱلرُّوحُ إِلَيْهِ [۱](ترجمہ: جس کی طرف روح (الامین) اور فرشتے چڑھتے ہیں) سے بھی یہی مفہوم اخذ کیا جاتا ہے۔

عُروج

مخلوق سے انقطاع اور مشاھدہ ذات و صفات میں اِستغراق کا نام عروج ہے۔ اولیاء کرام کا یہ عروج علمی اور رُوحی ہوتا ہے۔

عرش

اللہ تعالیٰ کی تجلیاتِ ذاتیہ و صفاتیہ کا مرکز ہے۔   ٱلرَّحْمَـٰنُ عَلَى ٱلْعَرْشِ ٱسْتَوَىٰ [۲](ترجمہ: رحمٰن جس نے بالائے عرش(لامکان میں) استواء فرمایا)
عرش سات آسمانوں اور جنت سے اُوپر محیطِ کائنات ہے عالمِ امر اور عالمِ خلق کے درمیان حدِ فاصل ہے دونوں کے ساتھ مناسبت کے باوجود دونوں کے آثار و اَحکام جُداگانہ ہیں۔

عالمِ خلق

مَاوَجَدَ عَنِ السَّبَبِ وَ یُطْلَقُ بِاِزَاءِ عَالَمِ الشَّھَادۃِ [۳](ترجمہ: جہاں سب کچھ سبب کے ذریعے وجود میں آئے اس پر عالمِ شہادت کا اطلاق آتا ہے) یعنی مادہ و مقدار سے پیدا ہونے والی مخلوق کو عالمِ خلق کہتے ہیں (جیسے عناسری اربعہ و ارضیات وغیرھا) عالمِ خلق کو "عالمِ اسباب، عالمِ اجسام اور عالمِ ناسُوت" کے ناموں سے بھی پُکارا جاتا ہے۔ ان سب کے مجموعہ کو عالمِ مادیات بھی کہتے ہیں۔
غرضیکہ عالمِ خلق، کائناتِ مادی پر مشتمل ہے جس میں ترتیب و تدریج ہے اور جسکی تخلیق میں زمانہ صرف ہوا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے هُوَ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَ‌ٰتِ وَٱلْأَرْضَ فِى سِتَّةِ أَيَّامٍۢ [۴](ترجمہ: وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا) دن سے مراد ہزار سالہ دن ہے وَإِنَّ يَوْمًا عِندَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍۢ مِّمَّا تَعُدُّونَ [۵](ترجمہ: اور بےشک تمہارے پروردگار کے نزدیک ایک روز تمہارے حساب کے رو سے ہزار برس کے برابر ہے ) یا پچاس ہزار سالہ دن ہے فِى يَوْمٍۢ كَانَ مِقْدَارُهُۥ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍۢ [۶] (ترجمہ: (اور) اس روز (نازل ہوگا) جس کا اندازہ پچاس ہزار برس کا ہوگا) یا اللہ تعالیٰ کے علم کے مطابق اس سے بھی بڑا دن مُراد ہے (وَاللہُ اَعْلَمُ)

عالمِ امر

مَاوَجَدَ عَنِ الْحَقِّ بِغَیْرِ سَبَبِِ وَ یُطْلَقُ بِاِزَاءِ الْمَلَکُوتِ [۷](ترجمہ: جہاں اللہ تعالیٰ کیطرف سے بغیر کسی سبب کے وجود میں آئےاور اس پر عالمِ ملکوت کا اطلاق آتا ہے)عالمِ امر کا ظہور لفظ کُنْ کے فرمانے سے ہوا إِنَّمَآ أَمْرُهُۥٓ إِذَآ أَرَادَ شَيْـًٔا أَن يَقُولَ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ[۸](ترجمہ:اس کی شان یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے)
یعنی مادہ و مقدار اور ترکیبِ عناصر سے کالی اور فقط امرِ کُن سے پیدا ہونے والی مخلوق پر عالمِ امر کا اطلاق آتا ہے(جیسے انسانی روحیں، ملائکہ اور لطائفِ مجرّدہ وغیرھا)  عالمِ امر کو عالمِ غیب، عالمِ ارواح، عالمِ لاھوت اور عالمِ جبروت سے بھی یاد کیا جاتا ہے ان سب کے مجموعے کو عالمِ مجرّدات بھی کہتے ہیں۔
آیتِ کریمہ أَلَا لَهُ ٱلْخَلْقُ وَٱلْأَمْرُ [۹](ترجمہ: دیکھو سب مخلوق بھی اسی کی ہے اور حکم بھی (اسی کا ہے) میں اسی عالمِ خلق و امر کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے۔
_______________________________________________________________________________
۱۔المعارج ۴
۲۔طٰہٰ ۵
۳۔کتاب التعریفات ص ۱۱۹
۴۔الحدید ۴
۵۔الحج ۴۷
۶۔المعارج ۴۰
۷۔کتاب التعریفات ص ۱۱۹
۸۔یٰس ۸۲
۹۔الاعراف ۵۴

Friday, September 20, 2013

مکتوب اول قسط ۸


متن: و بعد ازان یک فناءِ خاص روداد و ھمانا کہ آن تعین علمی کہ بعد از عَود تعین پیدا شُدہ بود درین فنا گم شد و اَثَرے از مَظانِ انا نماند۔ دریں وقت آثارِ اسلام و علاماتِ انہدامِ معالمِ شرکِ خُفی بظہور آمدن گرفتند و ھمچنین دیدِ قصورِ اعمال و متہم داشتن نیات و خواطر بالجملہ بعضے امارات عبودیت و نیستی ازاں باز ظاہر گشتہ اند حق سبحانہ و تعالیٰ بہ برکتِ توجہ حضرتِ ایشاں بحقیقتِ بندگی رساند

ترجمہ: اس کے بعد ایک خاص قسم کی فناء ظاہر ہوئی اور بے شک وہ تعینِ علمی جو تعینِ ذاتی کے عود (واپس لوٹنے) کے بعد ظاھر ہوا تھا وہ اس فنا میں گُم ہوگیا اور انانیّت و نفسانیت کا کوئی اثر باقی نہ رہا۔ اسی وقت اسلام کے آثار اور شرکِ خُفی کی علامات کا انہدام ظہور میں آنے لگا و ایسے ہی اعمال میں قصور اور نیتوں میں فتور رکھنا بھی نظر میں آیا و خطرات تمام  جن میں سے بعض بندگی اور نیستی کے متعلق ہیں ظاہر ہوگئے اللہ تعالیٰ نے جناب کی توجہ کی برکت سے مجھے حقیقتِ بندگی تک پہنچا دیا۔

شرح

واضح ہو کہ تعین دو ۲ قسم پر ہے۔۔۔۔۔ تعینِ جسدی اور تعینِ علمی،
جب سالک روحانی عروج کے دوران اپنی ذات اور جسم کی قید سے باہر آجاتا ہے اور اپنے آپ کو نہیں دیکھتا اور اپنے تعینِ جسدی کو فراموش کردیتا ہے تو اس وقت وہ دو ۲ حال سے خالی نہیں ہوتا یا تو اسکو اپنے سابق وجود (تعینِ جسدی) کا علم و شعور ہوتا ہے یا اپنے سابق تعین سے بھی بے خبر ہوجاتا ہے اور اپنے تعینِ جسدی و علمی سے گزر کر دائرہ لاتعین میں داخل ہوجاتا ہے جیسے روزہ دار شخص دِن بھر شدید پیاس محسوس کرتا رہتا ہے لیکن جب افطار کے وقت پانی پی لیتا ہے تو وہ بھی دو حال سے خالی نہیں ہوتا یا تو وہ دن بھر کی پیاس بدستور یاد رکھتا ہے  یا بلکل بھول جاتا ہے۔
پہلی حالت میں اگرچہ پیاس کا تعین جسدی معدوم ہے لیکن اس کا تعین علمی باقی ہے دوسری حالت میں پیاس کا تعینِ علمی بھی باقی نہ رہا۔
پیاس کا یاد رہنا یہ تعینِ علمی ہے اور بھول جانا تعینِ علمی کی فنا ہے۔
آپ فرماتے ہیں کہ عروج کے مرحلے میں وہ تعینِ علمی (اپنی انّا کا شعور) جو تعینِ ذاتی (جسدی) کے عود کے بعد پیدا ہوا تھا وہ اس فنائے خاص میں گم ہوگیا یعنی سالک کو کبھی عروج ہوتا ہے اور کبھی نزول ہوتا ہے۔ عروج کی حالت میں تعینِ علمی فراموش ہوجاتا ہے اور نُزول کی حالت میں وہ تعین پھر عود کر آتا ہے اور یہ روج و نزول کی کیفیات کبھی تھوڑی دیر کیلئے طاری ہوتی ہیں اور کبھی لمبے عرصے کیلئے باقی رہتی ہیں۔
یہاں آپ فنا کے ایک خاص مرتبے کا بیان فرما رہے ہیں جہاں آپ پر اپنے نفس کی انا کا کوئی اثر باقی نہ رہا اور شرکِ خُفی (تکبر، ریاء، خواھشاتِ نفس وغیرھا) کے دور ہونے کی علامات ظاہر ہوئیں اور حقیقی اسلام کے آثار رونما ہوئے اور اپنے اعمال کو ناقص اور نیتوں کو تہمت زدہ جاننا ظہور میں آیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بندے کو عجز و نیاز اور نیستی و بندگی کے اصل نشانات کا سراغ ملتا ہے اور مقام وجودیت و ظلیّت سے گزر کر مقامِ عبدیت پر فائز ہوتا ہے۔ وَذٰلِکَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْم۔

مکتوب اوّل قسط ۷


متن: و ظاہر را کہ ازاں نسبت خالی و معطل بود باین تجلی مشرف ساختہ اند و الحق ھمچنان یافتم کہ باطن اصلاً بزیغ بصر مبتلا نیست و از جمیع معلومات و ظہورات مُعرض است و ظاہر کہ متوجہ کثرت و اثنینیۃ بود باین تجلیّات مستعد گشتہ است بعد از چندگاہ این تجلیات رُو بخفا آوردند ھمان نسبتِ حیرت و نادانی بحالِ خود ماند و صَارَت تلک التجلیاتُ کاَنْ لم یکن شیئا مذکورا

ترجمہ: اور ظاہر کا کہ اس نسبت سے خالی و تہی تھا اس تجلی سے سرفراز کیا اور خاص حق کو اس طرح میں نے پایا کہ باطن کجیِ بصارت میں مبتلا نہیں ہے اور کل علوم و ظہورات سے معرض ہے اور ظاہر کہ کثرت اور دوئی میں متوجہ تھا ان تجلیات سے تیار ہوگیا ہے ان تجلیات کے بعد سے اچانک سب ختم ہوگیا وہی حیرت اور اپنے حال سے ناواقفیت باقی رہی

مکتوب اول قسط ۶


متن: دریں اثناء معلوم شد کہ ایں تجلی بآن نسبتِ تنزیہی جنگ ندارد وباطن ھمچنان گرفتارِ آن نسبت است بظآھر اصلاً مُلتفت نیست

ترجمہ: اسی حالت میں معلوم ہوا کہ یہ تجلی (تشبیہی نسبت) اس تنزیہی نسبت کے خلاف نہیں اور باطن ویسے ہی تنزیہی نسبت میں گرفتار ہے اور ظاہر کیطرف بلکل متوجہ نہیں ہے۔

شرح
اسمِ ظاہر کی تجلی کے شہود کے وقت حضرت امام ربانی کا ظاہرچونکہ کثرت اور دوئی کی طرف متوجہ تھا اس لئے وہ اسم الظاھر کی تجلیات سے ہرگز متاثر نہ ہوا کہ اس پر تنزیہی نسبت کا غلبہ تھا۔ اس فرمان کی بنیاد اس بات پر ہے کہ عارف ظاہر اور باطن کی ہر دو کیفیتوں سے مشرف ہوتا ہے اسکا ظاہر تجلیّاتِ صفاتیہ ظلّیہ میں مشغول ہوتا ہے اور اسکا باطن تجلیّاتِ ذاتیہ اصلیّہ میں غوطہ زن رہتا ہے وہ تشبیہی نسبت کے باوجود تنزیہی نسبت سے بھی کامل حصّہ رکھتا ہے۔ چونکہ حضرت امام ربانی قدس سرہ پر تنزیہی نسبت کا غلبہ تھا لہٰذا آپ عارضی طور پر وارد ہونے والی تشبیہی نسبت سے ہرگز متاثر نہ ہوئے جیسا کہ ایک مقام پر آپ فرماتے ہیں۔

طریقہ من طریقہ  سُبحانی است کہ از رہِ تنزیہہ رفتہ ام [۱](ترجمہ: میرا طریقہ سُبحانی ہے کیونکہ میں راہِ تنزیہہ سے خدا تک پہنچا ہوں)
 واضح ہو کہ نسبتِ تشبیہی توحیدِ وجودی میں عیاں ہوتی ہے اور نسبتِ تنزیہی توحیدِ شہودی میں حاصل ہوتی ہے گویا آپ فرماتے ہیں باوجودیکہ میرا ظاھر توحیدِ تشبیہی سے بہرہ یاب تھا لیکن باطن توحیدِ تنزیہی سے بدستور مشرف رہا اور کچھ مدت کے بعد اسم الظاھِرُ کی تجلیّات اس طرح پوشیدہ ہوگئیں گویا کہ کبھی تھیں ہی نہیں اور توحیدِ تشبیہی کے عارضی اَحوال و معارف مکمل طور پر زائل ہوگئے۔

تشبیہ

تشبیہ حقیقتِ مطلقہ (ذاتِ حق) کو مظاھر کَونیہ کی صورتوں میں ملاحظہ کرنے کو تشبیہ کہتے ہیں۔ تشبیہ کے معنی ہیں مشابہت دینا، علمِ کلام کی اصطلاح میں خالق کو مخلوق کی صفات سے متّصف کرنے کا نام تشبیہ ہے۔

تنزیہہ

حقیقتِ مطلقہ (ذاتِ حق) کو نقائص امکانیہ سے بری جاننا اور خالق کو مخلوق کی صفات سے متصف ہونے سے پاک ماننا تنزیہہ (تنزیہہ کا معنی ہے پاک کرنا) سُبْحَـٰنَ رَبِّكَ رَبِّ ٱلْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ [۲] (ترجمہ: یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں تمہارا پروردگار جو صاحب عزت ہے اس سے (پاک ہے))
حضرت ابن عربی قدس سرّہ حق تعالیٰ کی ذات میں تشبیہ و تنزیہہ دونوں کو جمع کرتے ہیں جب کہ حضرت امام ربانی کا اصرار ہے کہ انبیاء و مرسلین علیہم و الصلوٰت و التسلیمات کی شریعتوں میں توحیدِ تنزیہی کا سبق دیا گیا ہے نہ کہ توحیدِ تشبیہی کا۔ لہٰذا کشفی علوم و معارف کو وحی کے علوم و معارف پر ترجیح دینا کسی طرح بھی جائز نہیں۔ توحیدِ تنزیہی ہی اصل قرآنی تُوحید ہے کیونکہ تکمیل و بقاء کے مرتبے میں توحیدِ تشبیہی کے احوال و معارف یکسر گُم ہوجاتے ہیں۔

بینہ ۶: صُوفیائے وجودیہ درج ذیل آیات سے توحیدِ وجودی کا استنباط کرتے ہیں۔ 

* هُوَ ٱلْأَوَّلُ وَٱلْءَاخِرُ وَٱلظَّـٰهِرُ وَٱلْبَاطِنُ [۳](ترجمہ:وہ (سب سے) پہلا اور (سب سے) پچھلا اور (اپنی قدرتوں سے سب پر) ظاہر اور (اپنی ذات سے) پوشیدہ ہے)
*وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ رَمَىٰ[۴](ترجمہ:وہ تم نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ الله نے پھینکی تھیں)
*يَدُ ٱللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ[۵](ترجمہ:خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے)
*وَفِىٓ أَنفُسِكُمْ ۚ أَفَلَا تُبْصِرُونَ[۶](ترجمہ:اور خود تمہارے نفوس میں تو کیا تم دیکھتے نہیں؟)
*وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ ٱلْوَرِيدِ[۷](ترجمہ:اور ہم اس کی رگ جان سے بھی اس سے زیادہ قریب ہیں)
*وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ[۸](ترجمہ:اور تم جہاں کہیں ہو وہ تمہارے ساتھ ہے)
اور اس کے علاوہ دیگر آیات و احادیث سے بھی تاویلاتِ بعیدہ کے ساتھ توحیدِ تشبیہی ثابت کرتے ہیں اور اسکو صوفیائے عارفین کا مشاہدہ قرار بھی دیتے ہیں اور تنزیہہ در تشبیہہ اور تشبیہہ در تنزیہہ کے قائل ہیں اور ذاتِ حقّ کو جامع الاضداد بلکہ عینُ الاضداد قرار دیتے ہوئے جامع تنزیہہ و تشبیہہ ثابت کرتے ہیں، حالآنکہ صوفیائے محققین اور علمائے متکلمینِ اہل سُنّت نے مذکورہ بالانصوص سے توحیدِ تشبیہی پر مشتمل معانی ہرگز مراد نہیں لیے جیسا کہ علمائے اہل سنّت کی کُتبِ عقائد و تفاسیر سے ظاہر ہے۔ وَاللہُ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَمُ بِحَقِیْقَۃِ الحَال 
______________________________________________________________________
۱۔ دفتر سوئم مکتوب ۸۷
۲۔ الصآفّآت ۱۸۰
۳۔ الحدید ۳
۴۔ الانفال ۱۷
۵۔ الفتح ۱۰
۶۔ الذاریات ۲۱
۷۔ ق ۱۶
۸۔ الحدید ۴

Thursday, September 19, 2013

مکتوب اول قسط ۵




متن: اَمّا در اَثناءِ این تجلیّات آرزوی رفیقِ اعلیٰ داشتم وماینہا مَھّمَا امْکن ملتفت نمیشدم امّا مغلوب بودم چارہ نداشتم

ترجمہ: لیکن ان تجلیات کے وقت رفیقِ اعلیٰ کی آرزو رکھتا تھا اور ان کیطرف ممکن حد تک بے توجہ رہتا تھا لیکن میں مغلوب تھآ کوئی چارہ نہیں دیکھتا تھا۔

شرح

چونکہ سالکین حضرات اپنی اپنی استعداد میں تفاوُت رکھتے ہیں بعض ناقص استعداد والے اس قسم کی تجلیات کے سامنے مغرور یا مفرور ہوکر طلب اور عروج سے باز رہ جاتے ہیں اور اسی مقام پر قناعت کرلیتے ہیں اور بعض کامل استعداد والے مشاہدہِ تجلیّات کے وقت ثابت قدم رہتے ہیں چونکہ امام ربانی کی استعدادِ کامل تر اور ہمت بُلند تھی اسلئے ان تجلیّاتِ ظلالِ صفات کے سامنے آپ کے حواس بھی قائم رہے اور رفیقِ اعلیٰ (ذاتِ حق) کی طلب بھی بدستور موجود رہی۔

بینہ ۵: "رفیقِ اعلیٰ" اللہ تعالیٰ کا ایک اسم مبارک ہے بعض کے نزدیک انبیاء کی جماعت مُراد ہے جو اعلیٰ علییّن میں رہتی ہے اور بعض نے رفیقِ اعلیٰ سے بہشت مُراد لی ہے۔ نزع کے وقت محبوبِ خُدا صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ اقدس پر یہ کلمات تھے۔ اللّٰھُمَّ الرَّفِیْقَ الْاَعْلٰی [۱](ترجمہ: اے اللہ! مجھے رفیقِ اعلیٰ سے ملا دے)
___________________________________________________________________________________
۱۔یہاں اس حدیث کی طرف اشارہ ہے جس کو امام بخاری و مسلم نے حضرت سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بیان میں روایت کیا ہے۔

Wednesday, September 18, 2013

مکتوب اول قسط ۴



متن: وھمچنین در ھر طعامی و شرابی در کسوتی جُدا جُدا متجلی شد لطافتی و حُسنی کہ در طعامِ لذیذ پُرتکلف بود در ماوراءِ آن نبود و در آبِ شیریں تا آبِ غیر شیریں ھمیں تفاوت بود بلکہ در ھر لذیذ و شیریں یک خصوصیتِ کمال علیٰ تفاوُت الدَرَجات جُدا جُدا بود خصوصیات این تجلی را بتحریر بعرض نمیتواند رسانید اگر در ملازمت عَلِیّہ می بود شاید معروض میداشت۔

ترجمہ: اور اسی طرح اسم الظَّاھِرُ  کی تجلی کا ظہور کھانے ، پینے اور پہننے کی چیزوں میں الگ الگ ہوا جوعمدگی اور خوبی لذیذ و پُرتکلف کھانے میں تھی وہ کسی اور کھانے میں نہ تھی اور میٹھے پانی میں بھی دوسرے پانی (کھاری) کے مقابلہ میں یہی فرق تھا بلکہ ہر لذیذ و شیریں چیز میں خصوصیاتِ کمال میں سے اپنے اپنے درجے کے مطابق الگ الگ ایک خصوصیت تھی۔ یہ خادم اس تجلّی کی خصوصیات کو بذریعہ تحریر عرض نہیں کرسکتا۔ اگر آنجناب کی خدمت میں حاضر ہوتا تو شائد عرض کرسکتا۔

شرح

کھانے پینے کی پُرتکلّف اور لذیذ اشیاء میں دوسری عام اشیائے خورد و نوش سے زیادہ تجلی اور لطافت کا معلوم ہونا اور میٹھے پانی سے لیکر پھیکے اور کڑوے پانی تک میں بھی فرق محسوس کرنا اس وجہ سے ہے کہ اشیاءِ ممکنات عدم سے ظہور میں آئی ہیں اور عدم سراسر ظلمت، کدورت اور کڑواھٹ سے متہم ہے اس لئے جب عدم نے ظلالِ صفات کے پَرتَو سے وجود کا لباس پہنا تو ان تجلیاتِ ظلالِ صفات سے اشیائے ممکنات میں حُسن و خوبی اور لذت و حلاوت کی خصوصیات پیدا ہوئیں لیکن چونکہ لذیذ کھانے اور میٹھے پانی میں اِنعکاس زیادہ تھا اور غیز لذیذ و کڑوی اشیاء میں انعکاس کی کمی یا زیادتی اور ان کے درجات و استعدادات کے اِختلاف کی بنا پر مشہود ہوئیں (واللہ اَعْلَمُ بِحَقِیْقَۃِ الْحَالِ)

مکتوب اوّل قسط ۳ کی شرح



بینہ ۴: تجلیّاتِ اسماء و صفات لاتعداد ہیں اور حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے مراتِب مشاہدات بھی بے شمار ہیں۔
شہودِ ممکنات کے مرتبے میں آپ اسم الظاھِرُ کی تجلیات مشاھدہ فرماتے اور شہودِ ذات کے مرتبے میں اسم الباطِنُ کی بے کیف تجلیّات سے فیضیاب ہوتے۔ عورت کا وجود شہودِ ممکنات کا مرتبہ ہے، خوشبو اور نماز شہودِ ذات کا مرتبہ ہے، کیونکہ خوشبو روائح طیبّہ سے ہے اور اس کا تعلق نفسِ الٰہی اور ریحُ الرحمان کے ساتھ ہے جیسا کہ حدیث میں ہے۔ اِنِّیْ لَاَجِدُ نَفْسَ الرَّحْمَانِ مِنْ ھَاھُنا [۱] (ترجمہ: میں خوشبو میں رحمٰن کو پاتا ہوں)
اور نماز رویتِ الٰہی، مشاھدہ ذات اور معراج المومنین کا مقام ہے جیسا کہ حدیثِ احسان میں ہے اَنْ تَعْبُدَ اللہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ [۲] (ترجمہ: اللہ کی ایسے عبادت کر جیسے تو اسے دیکھ رہا ہے)
یہی وجہ ہے کہ شہودِ ممکنات کے مرتبے میں آپ نے عورت کو اور شہودِ ذات کے مرتبے میں خوشبو اور نماز کو محبوب قرار دیا جب آپ شہودِ ممکنات (مشاہدہِ تجلیّاتِ اسم الظَّاھِرُ) سے فارغ ہوتے تو لِیْ مَعَ اللہِ وَقْتُُ لَا یَسَعُنِیْ فِیْہِ مَلَکُُ مُقَرَّبُُ وَلَا نَبِّیُُ مُرْسَلُُ [۳](ترجمہ: میرا اللہ کے ساتھ ایک ایسا وقت بھی ہوتا ہے جس میں نہ کسی مقرب فرشتے کی گنجائش ہے نہ کسی نبی مرسل کی) کے مرتبہِ شہودِ ذآت (مشاھدہ تجلیّات اسم الباطِنُ) میں مصروف ہوجاتے لیکن چونکہ آپ جامع شہودِ تجلیّات تھے لہٰذا ایک ہی وقت میں تجلیّاتِ متعددہ سے لطف اندوز رہتے۔ آپ کا ظاھِرِ تجلیّاتِ اسم الظَّاھِرُ اور باطنِ تجلیّات اسم الباطِنُ سے شاد کام رہتا۔

اُدھر اللہ سے واصل اِدھر مخلوق میں شامل
خواص اس بزرخِ کُبریٰ میں ہے حرفِ مشدّد کا

بَیِّنَات

*حدیثِ مذکور میں حُبِّبَ (بلفظ مجہول) فرمایا گیا ہے یعنی یہ تین اشیاء میرے لئے محبوب بنائی گئیں ثابت ہوا کہ فی الحقیقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت تو صرف ذاتِ حق سے ہے باقی محبتیں مصلحتًا آپ پر مسلّط کی گئیں۔
*نیز فرمایا مِنْ دُنْیَاکُمْ تمہاری دنیا سے "معلوم ہوا کہ خود حضور صلّی اللہ علیہ وسلم حقیقت کے اعتبار سے اس دُنیا میں سے نہیں بلکہ آپ اللہ تعالیٰ کے نور سے ہیں اور یہ دُنیا آپ کے نُور سے مخلوق ہوئی جیسا کہ حدیث میں ہے۔

اَنَا مِنْ نُّوْرِ اللہِ وَ الْخَلْقُ کُلُّھُمْ مِنْ نُّوْرِی [۴](ترجمہ: میں خدا کے نور سے ہوں اور تمام مخلوق میرے نور سے ہے)
اسی طرح امام ربانی قدّس سرّہ نے ارشاد فرمایال
ھرچند بدقّتِ نظر صحیفہ ممکناتِ عالم را مطالعہ نمودہ می آید وجودِ آنسرور آنجا مشہود نمی گردَّد [۵](ترجمہ: جسقدر بھی باریک نظری کے ساتھ ممکناتِ عالم کے صحیفے کا مطالعہ کیا جاتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وجودِ مبارک عالم ممکنات میں دکھائی نہیں دیتا)
 اسی مکتوبِ گرامی میں چند سطور کے بعد آپ فرماتے ہیں

وچوں وجودِ آنسرور عَلَیْہِ وَعَلَیٰ اٰلِہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ در عالم ممکنات نباشد بلکہ فوق این عالَم باشد ناچار اُورا سایہ نبود۔
(ترجمہ: جب حضور سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود مبارک عالمِ ممکنات میں سے نہیں بلکہ اس عالم سے بلند ہے تو لازماً آپ کے جسم مبارک کا سایہ نہیں ہوسکتا) حضرت امام ربانی قدس سرّہ نے سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ نہ ہونے کی دو ۲ وجہیں بیان فرمائی ہیں۔
پہلی وجہ یہ کہ آپ کا وجود مبارک عالمِ مُمکنات سے بلند ہے اور شمس و قمر کا نظام ممکنات سے وابستہ ہے

بود برتر ز انجم و افلاک
زاں نیفتاد سایہ اش بر خاک
(ترجمہ: ستارے اور آسمانوں سے اونچے تھے اسلئے انکا سایہ خاک پر نہیں پڑتا تھا)

دوسری وجہیہ ہے کہ آپ کا وجودِ مبارک نور ہونے کی بنا پر تمام ممکنات سے لطیف ہے لہٰذا آپ کے جسم مبارک کی اعلیٰ لطافت کی وجہ سے آپ کا سایہ کیسے ہوتا؟ کیونکہ سایہ جسم سے زیادہ لطیف ہوتا ہے اور آپکا جسم مبارک سائے سے بھی زیادہ لطیف تھا۔

*واضح ہو کہ آپ کے لئے دُنیا میں صرف تین ۳ چیزیں محبوب بنائی گئیں اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ آپکی ذاتِ مبارکہ مظہرِ کمالاتِ ثلاثہ ثابت و ظاہر ہوجائے۔ جیسا کہ صوفیائے کرام نے صراحت فرمائی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کمالاتِ بشری ملکی اور حقّی کے جامع ہیں۔
عورتوں کے لباس میں آپ کے بشری کمال کا اظہار ہوا اور نماز کی صورت میں آپ کے ملکی کمال کا مظاہرہ ہوا اور خُوشبو کے رنگ میں آپ کا حِقّی کمال ظاہر کیا گیا۔ وَاللہُ اَعْلَمُ بِحَقِیْقَۃِ الْحَالِ
رَبَّنَا لَا تُئَواخِذْنَآ اِنْ نَّسِیْنَآ اَوْ اَخْطَانَا
___________________________________________________________
۱۔ذکرہ السیوطی فی الجامع الکبیر و اشارالی الیمن یہ روایت ان الفاظ میں بھی ملتی ہے انی لاجد نفس الرحمٰن من قبل الیمن (تفسیرِ کبیر ص۶ ج ۲۳ فتوحاتِ مکیّہ ص ۲۱۷ ج ۱)
۲۔بخاری ص ۱۲ ج ۱، مُسلم ص ۲۹ ج ۱
۳۔قال الامام السخاوی علیہ الرحمۃ (المتوفی ۹۰۴ھ) لی مع اللہ وقتُُ لایسعُ فیہ ملکُُ مقربُُ ولانبی مرسل یذکرہ المتصوفۃ کثیراً وھو فی الرسالۃ القشیریہ لٰکن بلفظ لی وقت لایسعنی فیہ غیر ربّی۔ ویشبہ ان یکون معنیٰ ماللترمذی ولابن راھویۃ فی مسندہ عن علیٰ فی حدیث طویل کان صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اذا اٰتیٰ منزلہ جزاً دخولہ ثلاثۃ اجزاء جزا لِلّٰہِ تعالیٰ و جزاَ لاھلہ و جزاً لنفسہ ثم جزاہ بینہ و بین الناس المقاصد الحسنہ ص ۲۵۸، شمائلِ ترمذی ص ۲۴
۴۔شرح قصیدہ خرپوتی
۵۔دفتر سوئم مکتوب ۱۰۰

Tuesday, September 17, 2013

مکتوب اوّل قسط ۳ کی شرح

بَیِّنَات


*اس گروہ کا مطیع ہونے اور پگھل جانے سے مراد معاذاللہ مادی یا جنسی محبت نہیں بلکہ غیراختیاری اور فطری محبت مراد ہے اور یہ بھی کسی خاص عورت سے نہیں بلکہ جنسِ عورت سے ہے اور یہ بھی ایک خاص حال کا بیان ہے ذاتی طلب نہیں جیسا کہ اہلِ ظاہر پر ظاہر ہے۔

*قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے

وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا [۱] (ترجمہ: اور اس(آدم) سے اس کا جوڑا(حوا) بنایا تاکہ اس سے راحت حاصل کرے۔)

*دوسری آیت میں ہے۔

وَمِنْ ءَايَـٰتِهِۦٓ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَ‌ٰجًۭا لِّتَسْكُنُوٓا۟ إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةًۭ وَرَحْمَةً ۚ إِنَّ فِى ذَ‌ٰلِكَ لَءَايَـٰتٍۢ لِّقَوْمٍۢ يَتَفَكَّرُونَ [۲](ترجمہ:اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے کہ اُس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس کی عورتیں پیدا کیں تاکہ اُن کی طرف (مائل ہوکر) آرام حاصل کرو اور تم میں محبت اور مہربانی پیدا کر دی جو لوگ غور کرتے ہیں اُن کے لئے ان باتوں میں (بہت سی) نشانیاں ہیں۔)
آیاتِ بالا سے ثابت ہوا کہ مطلق عورت کے وجود سے رغبت اور محبت انسان کی فطرت میں رکھ دینا مشیّتِ ایزدی کا ازلی تقاضا تھا۔ لہٰذا انسان عورت کی ذات سے محبّت پر مجبور بھی ہے اور مامور بھی۔

*قدرت نے عورت کی ذات میں اسم الظاھر کی تجلی کا ایسا نور ودیعت فرمادیا ہے کہ مرد اُس کی دید سے اپنے اندر باطنی طور پر ایک اَن جانی سی مانُوسیّت محسوس کرنے لگتا ہے۔ جیسا کہ حضرت آدم علیہ السّلام حضرت حوا کو اپنے قریب دیکھ کر طبیعتًا اور فطرتًا ان کی طرف راغب و مائل ہوگئے تھے۔ اللہ تعالیٰ کسی دوسری شے سے حضرت حوّا کو پیدا کردینے پر قادر تھا لیکن حوّا کو آپکے جسم کے ایک حصّے سے بنا کر عورت کی محبّت کو مرد کیلئے ذاتی محبّت بنا دیا نیز اس حُبی تعلق کو نکاح کے ساتھ مشروط فرما کر نسبتِ محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوات کو دونوں کے درمیان حدِ فاصل بنا دیا تاکہ دونوں کی روحانی و جسمانی طہارت کا سلسلہ برقرار رہے۔
درج ذیل حدیثِ نبویّہ علیٰ صاحبہا الصلوات اس مضمون کی مویّد ہے۔
حُبِّبَ اِلَیَّ مِنْ دُنْیَاکُمْ ثَلٰثُُ اَلطِّیْبُ وَالنِّسَآءُ وَجُعِلَ قُرَّۃُ عَیْنِیْ فِی الصَّلوٰۃِ [۳](ترجمہ: مجھت تمہاری دنیا سے تین چیزوں کی محبت دی گئی ہے اور وہ خوشبوہے، عورت ہے اور نماز میں میری آنکھوں کی ٹھنڈک رکھدی گئی ہے۔)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیلئے اسماء و صفات کے مظاھر کے مشاھدے کے دوران دُنیا کی پسندیدہ اشیاء میں خوشبو اور نماز کے علاوہ عورت کے وجود میں بھی تجلی اسم الظاھر مشہود ہوئی۔
______________________________________________________________________________
۱۔الاعراف ۱۸۹
۲۔الروم ۲۱
۳۔احیاء العلوم ص۳۱۴ ج ۴

Sunday, September 15, 2013

مکتوب اول قسط ۳


متن: علیٰ الخصوص در کِسوتِ نساء بلکہ در اَجزاءِ اینہا جُدا جُدا و آنقدر مُنقادِ اینطائفہ گشتم کہ چہ عرض نمایم و دریں اِنقیاد مضطر بودم ظہوریکہ درین کِسوت بودہ ھیچ جا نبودہ  خصوصیاتِ لطائف و محسناتِ عجائب کہ دریں لباس مینمودہ از ھیچ مظہری ظاہر نمیشدہ پیشِ ایشاں تمام گداختہ آب شدہ میرفتم

ترجمہ: خصوصی طور پر عورتوں کے بھیس میں بلکہ انکے اجزاء میں جُدا جُدا اور اسقدر اس گروہ کا مطیع ہوا کہ کیا عرض کروں؟ اور اس اطاعت میں میں بے اختیار تھایہ ظہور اس لباس میں ہوا تھا ایسا کہیں نہیں ہوا۔ خصوصی حسن اور لطائف کے وہ نظارے اس لباس میں جیدے ظاہر ہوئے کسی ایک مظہر سے ایسا مظاہرہ نہیں ہوا انکے سامنے مکمل پگھلا ہوا خود کو پانی کیطرح محسوس کرتا تھا۔

شرح

مقدمہ کے طور پر یہ امر ذہن نشین رہے کہ صُوفیائے شہودیہ کے نزدیک ممکنات کی حقیقت ، عدمِ محض ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے کائنات بنانے کا ارادہ فرمایا تو عدماتِ محضہ پر اپنی صفات کے ظلال کا انعکاس فرمایا جس سے کائنات وجود میں آگئی لہٰذا ہر ہر فردِ ممکنات میں اللہ تعالےٰ کی کسی نا کسی صفت کے ظِلال کا پَرتو موجود ہے لیکن ہماری مادی نگاہیں اسکے ادراک و احاطہ سے قاصر ہیں۔ البتہ اَولیائے عارفین کی باطنی نگاہیں اس کا ادراک کرلیتی ہیں کیونکہ وہ اللہ کے نُور سے دیکھتی ہیں، جیسا کہ حدیث شاہد ہے۔
اِتَّقُوْا فِرَاسَۃَ الْمُوْمِنِ فَاِنَّہ یَنْظُرُ بِنُوْرِ اللہِ [۱](ترجمہ: مومن کی فراست سے بچو وہ خدا کے نور سے دیکھتا ہے)۔

ظِلال


ظلالِ صفات سے مراد تعلّقاتِ صفات یا تمثالِ صفات ہیں تعلقاتِ صفات کی مثال جیسے علم کا تعلق معلومات کیساتھ اور قدرت کا تعلق مقدورات کیساتھ ہے۔
تمثالِ صفات کی مثال جیسے آئینے میں زید کی صورت، تمثالِ زید ہے بعض اوقات ظلالِ صفات کو مجازی طور پر صفات کے نام سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔

وجوھاتِ تخصیص


متن کی عبارت کے مطابق حضرت امام ربانی قدس سرہ نے سیرِ توحیدِ وجودی کے دوران اشیائے کائنات میں اللہ تعالیٰ کے اسم اَلظَّاھِرُ کی تجلیات کا مشاھدہ فرمایا لیکن خاص طور پر عورتوں کے وجود میں یہ تجلی زیادہ مشہود ہوئی۔ تخصیصِ نساء کی تین ۳ وجوھات ہوسکتی ہیں۔

پہلی وجہ


انسان میں دوطرح کی قوتیں موجود ہیں۔ قوتِ فاعلہ اور قوّتِ منفعلہ۔ قوتِ فاعلہ اثرانداز ہونے کی قوت کا نام ہے اور قوتِ منفعلہ اثر قبول کرنے کی قوت کا نام ہے۔ عورتوں میں اولاد کی تربیت و رضاعت کی اِستعداد سے قوتِ فاعلہ کا اظہار ہوتا ہے اور نُطفہ قبول کرنے کی استعداد سے قوتِ منفعلہ ظاھر ہوتی ہے لہٰذا عورتوں کی فطرت میں فاعلیّت اور اِنفعالیّت کی تاثیر کے غلبہ اور استعداد کی لطافت سے ہی وجہِ تخصیص مفہوم ہوتی ہے۔

دوسری وجہ


ظلالِ صفات کے انعکاس کی جو مختلف الانواع تاثیرات کائنات پر وارد ہوتی ہیں اشیائے کائنات ان تاثیرات کو بقدرِ ظرف و صلاحیت قبول کرتی ہیں چونکہ عورتوں کے وجود میں اَخذ و قبول کی صلاحیت اور اِفادہ و استفادہ  کی استعداد زیادہ موجود ہے لہٰذا اسم اَلظَّاھِرُ کی تجلیات کا عورتوں کے وجود میں زیادہ ظاہر ہونا ایک لازمی اور فطری اَمر ہے۔
حضرت ابنِ عربی رحمۃ اللہ علیہ نے تحریر فرمایا ہے۔

فَشُھُوْدُ الْحَقِّ فِی النِّسَآءِ اَعْظَمُ الشُّھُوْدِ وَاَکْمَلُہ [۲](ترجمہ: عورتکی ذات میں حق تعالیٰ کا شہود،اعظم اور اکمل شہود ہے)۔

تیسری وجہ


عورتوں کے لباس میں اسم الظاہر کی تجلی کا یہ شہود ہمہ وقتی اور دائمی نہ  تھا بلکہ یہ ظہور و شہود ایک خاص حالت اور خاص وقت میں ہوا جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کبھی کوہِ طور میں اور کبھی درخت میں تجلی صوری کا مشاھدہ فرمایا۔ یہ مطلب نہیں کہ آپ مستقل طور پر کوہِ طور یا درخت میں مسلسل یہ تجلی دیکھتے رہے بلکہ ان پر بھی ایک خاص حالت اور خاص وقت میں آنِ واحد کیلئے یہ تجلی مشہود ہے۔
____________________________________________________________________________________
۱ترمذی ص۱۴۰ ج ۲۔ طبرانی کبیر ص ۱۰۲ ج ۸۔
۲فصوص الحُکم کلمہ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم۔

Saturday, September 14, 2013

تمام شرح کا خلاصہ جو قسط ۲ سے متعلق ہے




بَیِِّنَات


*صوفیائے وجودیہ کے نزدیک تمام اشیائے کائنات کی صورتوں میں اللہ تعالیٰ کی تجلیات ظہور پذیر ہوتی رہتی ہیں اور وہ تمام مخلوقات کو حق تعالیٰ کے ظہورات قرار دیتے ہیں اور اسی بنیاد پر وہ اشیائے کائنات کو عین وجودِ حق تسلیم کرتے ہیں اور امکان و وجوب کو جمع کرتے ہیں جیسا کہ حضرت ابن عربی قدس سرہ فرماتے ہیں
وَصُوَرُ الْعَالَمِ لَایُمْکِنُ زَوَالُ الْحَقِّ عَنْھَا اَصْلاً [۱]
ترجمہ: اور عالم(کائنات) کی شکلوں سے حقِ تعالیٰ کا جُدا ہونا ممکن نہیں
*لیکن صوفیاءِ شہودیہ اشیائے کائنات میں وجودِ حق کی بجائے شہودِ حق کے قائل ہیں اور حق تعالیٰ کی ذات کو کائنات سے وراءُ الوراء جانتے ہیں اور امکان و وجوب کو ایک دوسرے کی ضد مانتے ہیں اور فرمانِ رسالت علیٰ صاحبہا الصلوات و التسلیمات رَاَیْتُ رَبِّی فِیْ اَحْسَنِ صُوْرَۃِِ [۲](میں نے پروردگار کو اچھی صورت میں دیکھا) اور آیت کریمہ

فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا۟ فَثَمَّ وَجْهُ ٱللَّهِ [۳](ترجمہ: تو جدھر تم رخ کرو۔ ادھر خدا کی ذات ہے) اس سے اللہ تعالیٰ کا شہود مراد لیتے ہیں اور ذاتِ حق کو صورتوں اور جہتوں سے منزہ مانتے ہیں۔ البتہ وہ شکلوں و صورتوں کو مظاھرِ ظلالِ صفات قرار دیتے ہوئے اس شہود کو مجازاً تجلّی صوری کے نام سے تعبیر کرت ہیں اور اس قسم کی تجلی کو سیر آفاقی کا حصّہ قرار دیتے ہیں۔
جیسا کہ حضرت امام ربانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا۔
تجلیّاتیکہ در صورِ حسی و مثالی و آنچہ در پردہ انوار است ہمہ داخلِ سیرِ آفاقی است [۴]
ترجمہ: وہ تمام تجلیات جو حسی اور مثالی صورتوں اور مختلف انوار کے پردوں میں سالک کو نظر آتی ہیں وہ سب سیر آفاقی میں داخل ہیں

*سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجدّدیہ میں اسماء و صفات کے اذکار و تکرار کی بجائے تکرار اسمِ ذات و اذکارِ نفی اثبات کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں کیونکہ اس نسبت کا منتہاء و مقصود فقط ذاتِ حقّ ہے نہ کہ صرف اسماء و صفات۔ یہی وجہ ہے کہ اس سلسلہ کے اکابری تجلیّاتِ ظلیہ صفاتیہ سے قرار نہیں پکڑتے بلکہ تجلیات اصلیہ ذاتیہ سے صبر و سکون پاتے ہیں اور انکی نسبتِ خاصہ بھی تجلی ذاتی ہے نہ کہ صرف تجلی برقی فَفْھَمْ

*واضح رہے کہ اسم اَلظاھِرُ و الباطن کے انوار و معارف کا ظہور "یَاظَاھِرُ یَا بَاطِنُ" کے وظیفہ و تکرار پر موقوف نہیں بلکہ ان کا تعلق مراقبہ و عرفانِ توحید اور منازلِ سلوک طے کرنے کیساتھ ہے۔

*صوفیائے نقشبندیہ نے سالک کی ترقی کیلئے ابتداء میں تکرارِ اسم ذات مقرر فرمایا ہے اور متوسط و منتہی کیلئے ابتداء میں نماز کے باہر تلاوتِ قرآن پاک اور انتہاء میں نماز کے اندر تلاوت قرآن پاک کا مشورہ دیا ہے اور یہی چریقہ ان کے نزدیک وصول اِلیٰ اللہ کے لیے اَنْسب و اَسْبق ہے۔

*سالک کو ابتدائی مرحلے میں تکرارِ اسمِ ذات کا سبق اسلئے دیا جاتا ہے کہ ذکر اسمِ ذات جذب و محبت کا ذریعہ ہے اور عالمِ وُجوب کیطرف میلان و پرواز کا موثر سبب ہے۔ فرمانِ رسالت علیٰ صاحبہا الصلوات کے مطابق مَنْ اَھَبَّ شَیْئًا اَکْثَرَ ذِکْرَہ [۵] (ترجمہ: جو کسی شئ سے محبت رکھتا ہے اسکا ذکر بھی کثرت سے کرتا رہتا ہے) ذکرِ محبوب، علاماتِ محبت میں سے ہے اور جذبہ محبت ہی سالک کو کثرتِ ذکر پر مجبور کرتا ہے کیونکہ مسمّٰی کی محبت اسم کی محبت پر دلالت کرتی ہے۔

*سالک کو تکرارِ اسم ذات کی برکت سے مراتبِ وجوب کا شہود نصیب ہوتا ہے اور یہ فیضِ شہود اس کو کشف کی راہ سے مسلسل محسوس ہوتا رہتا ہے اگر سالک صاحبِ کشف نا بھی ہو تو وجدان اور ذوقِ باطنی کے ذریعے اسکو حجابات اُٹھنے کا احساس اور لذّتِ قُرب کی یافت ہوتی رہتی ہے۔

*متوّسط کیلئے تکرارِ نفی اثبات اسلئے مقرر فرمایا ہے کہ وہ ظِلال کی ولایت سے اصل تک پہنچے۔ منتہی کیلئے تلاوتِ قرآن اس لیے ضروری قرار دی جاتی ہے تاکہ ظلال اور نفس کی گرفتاری سے فارغ ہوکر اللہ تعالیٰ سے ھم کلامی کا شرف پائے اور اسرارِ ربانی کو سمجھ سکے۔ وَبِاللہِ التَّوْفِیْق
_____________________________________________________
۱۔فصوص الحکم کلمہ نوحیہ
۲۔ترمذی ص ۱۸۶ ج ۲
۳۔البقرۃ ۱۱۵
۴۔مکتوبات امام ربانی
۵۔کنزالعمال ص ۴۲۵ ج

Friday, September 13, 2013

مکتوب اوّل قسط ۲ کی مزید تشریح

سیر و سلُوک


سَیر و سُلوک کا مقصد تصفیہ باطن اور تزکیہ نفس کے ذریعے حجابات کو دور کرنا ہوتا ہے۔(خواہ یہ حجابات وجوبی ہوں یا اِمکانی) تاکہ مطلوب کے ساتھ بے کیف وصلِ عریانی (بےپردہ وصال) حاصل ہوسکے۔

سیر


سالک کے ایک حال سے دوسرے حال ، ایک تجلی سے دوسری تجلی، ایک مقام سے دوسرے مقام میں منتقل ہونے کا نام ہے۔ سیر دو ۲ قسم پر ہے۔ سیر آفاقی اور سیرِ انفسی جیسا کہ آیتِ قرآنی ہے۔

سَنُرِيهِمْ ءَايَـٰتِنَا فِى ٱلْءَافَاقِ وَفِىٓ أَنفُسِهِمْ [۱]
ترجمہ: ہم عنقریب ان کو آفاق میں بھی اور اَنفس میں بھی اپنی نشانیاں دکھاتے ہیں۔
آفاق سے مراد کائنات ہے اور اَنفس سے مراداپنی ذات ہے۔آفاق اور اَنفس کے درمیان اجمال و تفصیل کا فرق ہے۔ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کے محل و منظر ہیں جن سے حق تعالیٰ کا پتہ چلتا ہے۔
سیرِ آفاقی میں تجلیّاتِ اسماء و صفات کا ظہور ہوتا ہے اور سیر انفسی میں تجلیاتِ ذات کا ظہور ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیرِ آفاقی میں اسم ظاھر کے معارف و تجلیّات سالک کی تعبیر و ادراک میں سما سکتے ہیں لیکن سیرِ انفسی میں اسم الباطن کے معارف و تجلیّات سالک کے کے احاطہِ ادراک سے وراء ہوتے ہیں کیونکہ ذات کے معارف و تجلیّات ، بے رنگی اور بے کیفی کے سبب سالک کے فہم سے بلند ہوتے ہیں اسی لئے عارفین نے اسم ظاھر کے معارف کے متعلق فرمایا

مَنْ عَرَفَ اللہَ طَالَ لِسَانُہ
ترجمہ: جس نے خدا کو پہچان لیا اسکی زبان دراز ہوگئی۔

اور اسم الباطن کے معارف کے بارے میں فرمایا۔

مَنْ عَرَفَ اللہَ کَلَّ لِسَانُہ
ترجمہ: جس نے خدا کی معرفت حاصل کی اسکی زبان گنگ ہوگئی۔

سلوک


خدا تک پہنچنے کا وہ راستہ جو بطریقِ مجاہدہ یا بذریعہ سیر کشفی عیانی طے کیا جائے (نہ کہ بطریقِ استدلال) سلوک کہلاتا ہے۔

سالک


اس راستے پر استقامت کیساتھ چلنے والے اور ساعت بہ ساعت ترقی کرنے والےکو سالک کہتے ہیں ھُوَ الَّذِیْ مشَیٰ عَلَی الْمَقَامَاتِ بِحَالِہ لَابِعِلْمِہ [۲] یعنی جو اپنے حال کے مطابق مقامات طے کرتا چلا جائے (نہ کہ محض علم و قال کے بل بوتے پر)

عارف


اللہ تعالےٰ کی صفات اور اسکے مقدراتکو بطریقِ حال و مشاھدہ (نہ کہ بطریقِ مجرد علم) پہچاننے والے کو عارف کہتے ہیں۔

مکتوب اوّل قسط ۲ کی مزید تشریح


تمام اشیاء میں تجلّی اسم الظاھر کے ظہور کا مفہوم
حضرت امام ربانی قدس سرہ فرماتے ہیں۔
" اثنائے راہ سلوک میں حق تعالیٰ اسم ظاھر کی تجلی سے اس قدر جلوہ گر ہوا کہ تمام اشیاء میں خاص تجلی کیساتھ علیحدہ علیحدہ ظاہر ہوا"
اس مضمون کو سمجھنے کیلئے درج ذیل حقائق پیشِ نظر رہنے چاہئیے!
*طریقِ سلوک میں جب سالک کا مراقباتِ اسماء و صفات سے گزر ہوتا ہے تو سالک کیلئے چار اسماء یا چار صفات کی سیر بنیادی ارکان کی حیثیت رکھتی ہے اور وہ یہ ہیں۔ ٱلْأَوَّلُ وَٱلْءَاخِرُ وَٱلظَّـٰهِرُ وَٱلْبَاطِنُ
ان مراقبات میں آیتِ مبارکہ ٱلْأَوَّلُ وَٱلْءَاخِرُ وَٱلظَّـٰهِرُ وَٱلْبَاطِنُ کا مفہوم واضح ہوتا ہے اور ان اسماء و صفات پر غور و تدبر سے سالک پر ان کے اسرار و انوار منکشف ہوتے ہیں۔ خاص کر اسم ٱلظَّـٰهِرُ وَٱلْبَاطِنُ سالک کے روحانی عروج کیلئے دو پر یا دو بازو ہیں جن کے ذریعے عالم قِدس کیطرف پرواز ہوتی ہے۔
صوفیاء کے نزدیک اسم ٱلظَّـٰهِرُ کی تجلیات کا مقتضیٰ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب اور محیط ہے اور ہر شے سے اسکے جلوے ظاہر ہورہے ہیں اور اسم ٱلْبَاطِنُ کی تجلیات سے یہ راز کھلتا ہے کہ وہ ہر شے کی ذات سے بھی اس شئی کے زیادہ قریب ہے ان دونوں اسموں کی سَیر سے سالک کو یقین ہوجاتا ہے کہ حق تعالیٰ اتنا ظاہر ہے کہ ہر چیز کا وجود اس کی ذات پر دلالت کرتا ہے اور ذرّے سے لیکر آفتاب تک سب کچھ اسکے وجود کی شہادت دیتا ہے اور باطن اتنا ہے کہ قُرب کے باوجود ہر شے اسکے حقیقت کے اِدراک سے عاجز و قاصر ہے۔

برگِ درختانِ سبز در نظر ھوشیار
ھر ورق دفتریست معرفتِ کردگار
(شیخ سعدی رح)

(ترجمہ:سبز درختوں کے پتے بھی دانشمند کی نظر میں ایسے ہیں کہ ایک ایک پتا خدا کی معرفت کا دفتر ہے)

سیر اسماء و صفات

صوفیہ کرام کے مطابق سیرِ اسماء و صفات کے مفہوم اس آیت سے ماخوذ ہے
وَلِلَّهِ ٱلْأَسْمَآءُ ٱلْحُسْنَىٰ فَٱدْعُوهُ بِهَا [۱](ترجمہ: اور خدا کے سب نام اچھے ہی اچھے ہیں۔ تو اس کو اس کے ناموں سے پکارا کرواور خدا کے سب نام اچھے ہی اچھے ہیں۔ تو اس کو اس کے ناموں سے پکارا کرو)

اسماءِ الحُسنیٰ

اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات تو لامُتناھی ہیں لیکن ان سب کا مرجع نناوے اصولِ متناہیہ کیطرف ہے انہیں اسمائے حسنیٰ سے تعبیر کیاجاتا ہے۔

امہات اسماء

اسماء حُسنیٰ کا مرجع آٹھ اصولوں کی جانب ہے جنہیں امہات اسماء کہتے ہیں اور وہ یہ ہیں حیات، علم، قدرت، ارادہ، سمع، بصر، کلام اور تکوین نتیجتاً ان تمام اسماء کا مرجع ایک اصل کی جانب ہے اور وہ اسم اللہ ہے جو جامع ہے جمیع اسماء الٰہیہ کا اور شامل ہے جمیع صفاتِ الٰہیہ کو۔

احصائے اسماء

سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اِنَّ لِلّٰہِ تِسْعَۃً وَّ تِسْعِیْنَ اِسْمًا مِائَۃً اِلَّا وَاحِدً مَنْ اَحْصَاھَا دَخَلَ اَلْجَنَّۃَ [۲]
ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ کے نناوے ۹۹ اسماء ہیں جس نے انکا احصاء کرلیا وہ جنت میں داخل ہوا۔
یہاں احصائے اسماء سے مراد اسمائے حق تعالیٰ سے متحقق اور متخلق ہونا ہے صرف ان اسماء کا وظیفہ کرنا اور انکا تلفظ یا تکرار یا شمار مراد نہیں۔

دائرہ اسماء

دوائرِ محبت میں پہلا دائرہ اسماء کا ہے۔ سالک مبتدی جب مسمیٰ تک نہیں پہنچ سکتا تو اسم سے ہی اپنے دل کو تسلی دے لیتا ہے۔ اس دائرے میں سالک کو معرفتِ ذات بواسطہ اسماء کی تعلیم دی جاتی ہے۔

دائرہِ صفات

دوسرا دائرہ صفات کا ہے۔ اس دائرے میں سالک صفات کے پرتو سے فیض یاب ہوتا ہے اور کائنات میں ہر طرف اللہ تعالیٰ کی قدرت اور صنعت کے نمونے اسکی صفات کے مَظہر نظر آتے ہیں۔ اس دائرے میں معرفتِ ذات بواسطہ صفات کی تربیت دی جاتی ہے۔

دائرہِ ذات

تیسرا دائرہ ذات کا ہے۔ اس دائرے کی وسعت لامحدود ہے ۔ اس میں نہ اسماء پیش نظر ہوتے ہیں نہ صفات بلکہ اس میں معرفتِ ذات بلاواسطہ اسماء و صفات کا سبق دیا جاتا ہے۔

سیرِ دوائر

حضرت امام ربّانی قدس سرہ فرماتے ہیں۔
سَیر در اسم الظاھر سیر در صفات است بے آنکہ درضمنِ آنھا ذات ملحوظ گردد تَعَالیٰ و تَقَدَّسَ و سَیر در اسم الْبَاطن نیز ھرچند سَیر در اسماء است اما در ضمن آنھا ذات تعالیٰ ملحوظ است و آن اسماء در رنگ سِپَر ھا اند کہ روپوش حضرت ذات تعالیٰ و تقدس گشتہ مثلاً در صفتُ العلم ذات تعالیٰ اصلاً ملحوظ نیست و در اسمُ العلیم ملحوظ ذات است تعالیٰ در پس پردہِ صفت زیراکہ علیم ذاتے است کہ مُراد را علم است۔ فَالسَّیْرُ فِی الْعِلْمِ سَیْرُُ فِی الْاِسْمِ الظَّاھِرِ وَالسَّیْرُ فِی الْعَلِیْمِ سَیْرُُ فِی الْاِسْمِ الْبَاطِنِ وَقِسُ عَلیٰ سَائِرَ الصِّفَتِ وَالْاَسْمَاءِ [۳]

ترجمہ: اسم الطاھر کی سیر صفات میں ہے بغیر اس بات کے کہ اس ضمن میں ذات ملحوظ ہو اور اسم الباطن کی سیر بھی اگرچہ اسماء میں ہے لیکن اس کے ضمن میں ذات ملحوظ ہے اور یہ اسماء ڈھالوں کیطرح ہیں جو حضرت ذات کے حجابات ہیں مثلاً صفت علم میں ذات ملحوظ نہیں لیکن اس کے اسم علیم میں پردہ صفت کے پیچھے ذات ملحوظ ہے کیونکہ علیم ایک ذات ہے جس کی صفت علم ہے پس علم میں سیر اسم الظاہر کی سیر ہے اور علیم میں سیرِ اسم الباطن کی سیر ہے باقی تمام اسماء و صفات کا حال اسی قیاس پر ہے۔

مراقبہ اسم الظاھر

مراقبہ اسم الظاھِر میں منشاء فیض وہ ذات حق تعالیٰ ہے جس کے اسماء مبارکہ میں سے ایک اسم مبارک "الظاھِرُ" ہے۔ اسکا موردِ فیض لطیفہ نفس (مع لطائفِ خمسہ) ہے۔ اس مراقبے میں سیر اسماء و صفات کی تجلیات میں ہوتی ہے بغیر ملاحظہ ذات تعالت و تقدست کے پس سالک کی سیر تجلیاتِ صفات میں مظاہر اسم الظاھر کی سیر ہے اور سالک کی سیر اسماء صفاتیہ میں مظاہر تجلیات اسم الباطن کی سیر ہے۔
_____________________________________________________
۱۔الاعراف ۱۸۰
۲۔ابن ماجہ ص ۲۷۴
۳۔دفتر اوّل مکتوب