مرتبہ دوم
باز عروج واقع شُد مقاماتِ مشائخِ عظام و آئمہ اہل بیت و خلفاءِ راشدین و مُقامِ خاصہ حضرتِ رسالت پناہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و علیہم وسلم وبارک و ھمچنین مقامات سائرِ انبیاء و رُسُل علیٰ التفاوت و مقاماتِ ملائکہ مَلَاْ اَعلیٰ فوقِ محدِّد مشہود گشت و فوق محدِّد آن مقدار عروج واقع شد کہ از مرکزِ خاک تا محدّد یا اندکے کمتر ازیں و تا مقامِ حضرتِ خواجہ نقشبند قدس اللہ تعالیٰ سرّہ الاقدس منتہی شد و فوقِ آن مقام چندے از مشائخ بودند بلکہ در ھمان مقام بافوقیت قلیلہ مثل شیخ معروف کرخی و شیخ ابوسعید خراز و باقی مشائخ بعضی در تہ آن مقام مقامات داشتند و بعضی در ھمان مقام بودند اما در تحت مثل شیخ علاو الدولہ و شیخ نجم الدین کُبریٰ و فوقِ آن مقام آئمہ اہل بیت بودند و فوقِ آن خلفائ راشدین رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین ومقاماتِ سائر انبیاء علی نبینا و علیھم الصلوٰۃ والسلام یک طرف علحدہ از مقامِ آن سرور بود و ھمچنین مقاماتِ ملائکہ عالین صلوات اللہ و سلامہ علی نبینا علیھم اجمعین در طرفِ دیگر جُدا ازان مقام بود امّا مقامِ آنسرور از جمیع مقامات فوقیت و سروری بود واللہ سبحانہ اعلم بحقائق الامور کلھا و ھرگاہ میخواھم بعنایت اللہ سبحانہ عروج واقع میشوَّد و در بعضی اوقات بیخواست ھم واقع میشوَّد و چیزی دیگر ھم دیدہ می شوَّد بر بعضی عروجات آثار ھم مُتَرتّب می شوَّد و اکثر چیز ھا فراموش می شوَّد و ہر چند میخواھم کہ بعضی حالات را بنویسم کہ در وقتِ عرضداشت کردن بیاد آید مُیَّسر نمی شَوَّد زیراکہ در نظر محقَّر مے در آید جائے آن دارد کہ ازآن استغفار کردہ شوَّد چہ جائے آنکہ بنویسد در اثناءِ اِملاءِ عریضہ ھم بعضی چیزھا بیاد بود تا آخر وفا نکرد کہ نوشتہ شوَّد زیادہ گستاخی نہ نمود حالِ ملا قاسم علی بہتر است غلبہِ اِستہلاک و استغراق است و از جمیع مقاماتِ جذبہ بفوق قدم نہادہ و صفات را کہ اول از اصل می دید حالا باوجودِ آن صفات را از خود جدا می بیند و خود را خالیِ محض می یابد بلکہ نورے کہ صفات قائم باویند نیز از خود جدا می بیند و خود را ازان نور در طرفِ دیگر مے یابد و احوالِ یارانِ دیگر ھم روز بروز در بہی است در عرضداشتِ دیگر انشاء اللہ العزیز بتفصیل عرضداشت خواھد کرد
ترجمہ: پھر عروج واقع ہوا مشائخِ عظام رح اور اہلبیت کے آئمہ ع اور خلفائے راشدین رض کے مقامات اور خاص حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام اور ایسے ہی تمام انبیاء و رسل ع کے مقامات درجات کیساتھ اور مَلَّا اعلیٰ کے فرشتوں کے مقامات عرش کے اوپر مشاھدہ میں آئےاس قدر بالائے عرش عروج واقع ہوا کہ فرش سے عرش تک یا کمترین سے حضرت خواجہ نقشبند رح تک انتہاء ہوئی اور اس مقام سے اوپر کچھ مشائخ تھے اور وہ چند ہی تھے جو فوق تھے جیسے شیخ معروف کرخی رح اور شیخ ابوسعید خزاررح اور باقی تمام مشائخ انہی کے نیچے اپنے اپنے مقامات پر ہیں اور بعض انہی کے مقام پر جیسے شیخ علاو الدولہ رح اور شیخ نجم الدین کُبریٰ رح اور ان سے اوپر آئمہِ اہل بیت ع کا مقام ہے اور ان سے اوپر خلفائے راشدین رض اور تمام انبیاء کرام ع کے مقامات، ان سب سے ایک الگ سمت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امتیازی مقام تھآ اور اسی طرح ایک دوسری سمت میں اس مقام سے جدا فرشتوں کے مقامات تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقام ان تمام مقامات سے بڑھ کر اور ان سب پر سردار مقام تھا اور اللہ تمام اشیاء کی حقیقت کو اچھی طرح جانتا ہے اور میں جس طرف چاہتا ہوں خدا کے فضل سے عروج واقع ہوجاتا ہے اور بعض دفعہ تو چاہے بغیر بھی ہوجاتا ہے اور کچھ اور چیزیں دیکھنے میں آتی ہیں۔بعض دوسرے احوال بھی ترتیب دئیے جارہے ہیں لیکن کافی چیزون کو بھلا دیا جاتا ہوں اور جس قدر چاہتا ہوں کہ بعض حالات کو لکھوں خط لکھتے وقت یاد آتے ہیں تب ممکن نہیں ہوتا کہ انہیں لکھا جائے کیونکہ میری نظر میں حقیر ہوجاتے ہیں بات تو یہ ہے کہ ان سے توبہ کرنی چاہئیے نا کہ انہیں لکھا جائےلکھواتے ہوئے بعض چیزوں کا عریضہ بھی یاد تھا لیکن آخر تحریر تک یادداشت نے وفا نا کی زیادہ گستاخی نہیں کرتا۔ ملا قاسم علی کا حال بہتر ہے استغراق و استہلاک کا اس پر غلبہ ہے تمام مقامات سے بالا اس نے قدم رکھا ہے اور صفات کو کہ اصل دیکھتا تھا لیکن اب ان صفات کا وجود خود سے الگ دیکھتا ہے اور خود کو مطلق خالی پاتا ہے بلکہ ایک نور کہ اس سے صفات قائم ہیں نیز اسکو بھی خود سے جدا دیکھتا ہےاور خود کو ایک دوسری سمت کے نور میں پاتا ہے اور دوسرے یاروں کے حالات بھی روزبروز مائل بترقی ہیں بندہ دوسرے خط میں انکا انشاء اللہ حال تحریر کرے گا۔
لَقِیْتُ اِبْرَاھِیْمَ لَیْلَۃََ اُسْرِیَ بِیْ فَقَالَ یَامُحَمَّدُ اِقْرَءُ اُمَّتَکَ مِنِّی السَّلَامَ وَاَخْبِرْھُمْ اَنَّ الْجَنَّۃَ طَیِّبَۃُ التُّرْبَۃِ عَذْبَۃُ الْمَآءِ وَاِنَّھَا قَیْعَانُُ وَاِنَّ غِرَاسَھَا سُبُحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ واللہُ اَکْبَرُ [۳](ترجمہ: معراج کی رات میری ملاقات ابراھیم ع سے ہوئی انہوں نے فرمایا اپنی اُمت کو میرا سلام پہنچائیں اور انہیں بتائیں کہ جنت کی مٹی پاک ہے اور پانی میٹھا ہے صاف اور ہموار میدان ہے اس میں باغ لگانے والے یہ کلمات ہیں سُبُحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ واللہُ اَکْبَرُ )
شرح
سلوک میں اہل اللہ کے دو ۲ طرح کے مقام ہوتے ہیں پہلا مقام عروج ہے اور دوسرا مقامِ نزول ہے مقامِ عروج یہ ہے کہ انسان بشری صفات سے الگ ہوکر ملکی اور قُدسی صفات کا لبادہ پہن لے اور وہ عالمِ ملکوت وغیرھا میں سیر کرے اس کو سیر اِلیٰ اللہ وَ فِی اللہ کہتے ہیں۔
مقامِ نزول یہ ہے کہ انسان صفاتِ بشریہ سے الگ ہونے کے بعد دوبارہ صفاتِ بشریہ کا لبادہ اوڑھ کر دوسرے لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دینے کے لئے واپس لوٹ آئے اس کو سیر عَن اللہ باللہ کہتے ہیں۔
بینہ ۱۴
صُوفیاء کے نزدیک اجسامِ لطیفہ اور ارواحِ نفیسہ کا اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی رُوحانی قوت سے آسمانوں اور عرش و فرش کی طرف سیر و پرواز کرنا اور عالمِ مثال وغیرھا کی مخلوق سے ملاقات کرنا بمطابق ارشادِ باری تعالیٰ لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَن طَبَقٍۢ [۱](ترجمہ:کہ تم درجہ بدرجہ (رتبہٴ اعلیٰ پر) چڑھو گے) اور بمطابق حدیثِ معراج ایک ایسی حقیقتِ ثابتہ ہے جو محتاجِ دلیل و وضاحت نہیں تاہم چند شواہد بطورِ تائید ہدیہ قارئین ہیں تاکہ نفسِ مسئلہ سمجھنے میں آسانی رہے وَاللہُ الْمُوَفِّق۔
چند شواھد
مذھبی شواھد
واقعہ معراج کے ضمن میں حافظ ابنِ کثیر رحمۃ اللہ علیہ رقمطراز ہیں۔ ثُمَّ لَقِیَ اَرْوَاحَ الْاَنْبِیَاءِ فَاثْنَوْا عَلیٰ رَبِّھِمْ [۲](ترجمہ: پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معراج کی رات انبیاء کی ارواح سے ملاقات فرمائی اور ان ارواح نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی)
سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
لَقِیْتُ اِبْرَاھِیْمَ لَیْلَۃََ اُسْرِیَ بِیْ فَقَالَ یَامُحَمَّدُ اِقْرَءُ اُمَّتَکَ مِنِّی السَّلَامَ وَاَخْبِرْھُمْ اَنَّ الْجَنَّۃَ طَیِّبَۃُ التُّرْبَۃِ عَذْبَۃُ الْمَآءِ وَاِنَّھَا قَیْعَانُُ وَاِنَّ غِرَاسَھَا سُبُحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ واللہُ اَکْبَرُ [۳](ترجمہ: معراج کی رات میری ملاقات ابراھیم ع سے ہوئی انہوں نے فرمایا اپنی اُمت کو میرا سلام پہنچائیں اور انہیں بتائیں کہ جنت کی مٹی پاک ہے اور پانی میٹھا ہے صاف اور ہموار میدان ہے اس میں باغ لگانے والے یہ کلمات ہیں سُبُحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ واللہُ اَکْبَرُ )
نیز ارشاد فرمایا
مَرَرْتُ عَلیٰ مُوْسیٰ فَقَالَ مَا فَرَضَ اللہُ لَکَ عَلیٰ اُمَّتِکَ قُلْتُ فَرَضَ خَمْسِیْنَ صَلٰوۃََ [۴](ترجمہ: یعنی پس موسیٰ ع پر میرا گزر ہوا انہوں نے پوچھا اللہ تعالیٰ نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا (روزانہ)پچاس نمازیں فرض کی گئی ہیں۔)
رَاَیْتُ جَعْفَرْا یَطِیْرُ فِی الْجَنَّۃِ مَعَ الْمَلائِکَۃِ [۵](ترجمہ: میں نے جعفر طیار رض کو جنت میں فرشتوں کیساتھ اڑتے دیکھا)
ایک اور حدیث میں آیا ہے
قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَرْتُ لَیْلَۃََ اُسْرِیَ بِیْ بِرَجُلِِ مُغِیْبِِ فِیْ نُوْرِ الْعَرْشِ [۶](حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ معراج کی رات میرا ایسے شخص پر گزر ہوا جو عرش کے نور میں پوشیدہ تھا)
حضرت کعب بن مالک رض اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اِنَّمَا نِسْمَۃُ الْمُوْمِنِ طَائِرُُ [۷](ترجمہ: مومن کی روح پرندہ ہے جہاں چاہے چلی جاتی ہے)
آخر میں حضرت شیخ ابوالحسن رفاعی رحمۃ اللہ علیہ کے قول پر اِکتفا کیا جاتا ہے قَالَ الشَّیْخُ اَبُوْ الْحَسَنِ الرَّفَاعِیُّ صَعِدْتُّ فِیْ الْفَوْقَانِیَّاتِ الیٰ سَبْعِمِائَۃِ اَلْفِ عَرْشِِ فَقِیْلَ لِیْ اِرْجِعْ لَاوُصُوْلَ لَکَ اِلیٰ الْعَرْشِ الَّذِیْ عُرِجَ بِہ مُحَمَّدُُ صلَّی اللہُ علیہ وسَلَّمَ [۸] (حضرت ابو الحسن رفاعی رح نے کہا کہ میں روحانی طور پر عالمِ بالا کیطرف عروج کرتا رہا یہاں تک کہ سات لاکھ عرش سے گزر گیا پھر مجھے کہا گیا واپس لوٹ جا جس عرش پر سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہوئی تو وہاں تک نہیں پہنچ سکتا)
دنیائے اثیر کے شواہد
عصرِ حاضر میں سائنسدانوں کے نزدیک دنیائے اثیر (کاسمک یا آسٹرل ورلڈ) ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ مذھبی نقطہِ نظر سے اس کو عالمِ مثال کہہ لیجئیے۔
دراصل عالمِ اثیر کائنات کا دماغ ہے جس میں ازل سے ابد تک تمام تصاویر اصوات و اقوال و افعال و اعمال محفوظ ہیں غالبًا قرآن مجید میں اسی کی طرف اشارہ ہے
وَكُلُّ شَىْءٍۢ فَعَلُوهُ فِى ٱلزُّبُرِo وَكُلُّ صَغِيرٍۢ وَكَبِيرٍۢ مُّسْتَطَرٌ [۹](ترجمہ: اور جو کچھ انہوں نے کیا، (ان کے) اعمال ناموں میں (مندرج) ہے (یعنی) ہر چھوٹا اور بڑا کام لکھ دیا گیا ہے)
وَكُلُّ شَىْءٍۢ فَعَلُوهُ فِى ٱلزُّبُرِo وَكُلُّ صَغِيرٍۢ وَكَبِيرٍۢ مُّسْتَطَرٌ [۹](ترجمہ: اور جو کچھ انہوں نے کیا، (ان کے) اعمال ناموں میں (مندرج) ہے (یعنی) ہر چھوٹا اور بڑا کام لکھ دیا گیا ہے)
دنیائے اثیر کے محققین کا خیال ہے کہ عالمِ اثیر کے متعلق حسّاس دماغ جب چاہیں انکشافات حاصل کرسکتے ہیں ارواح سے رابطہ قائم کرسکتے ہیں ان سے باتیں کرسکتے ہیں ایک پادری لیڈبیٹر نے اپنی کتاب Invisible Helper میں ایک عورت مسز پالیٹر کا ذکر کیا ہے جو خود کو بے ھوش کرکے ارواح کو بلاتی تھی اور بچھڑے ہوئے عزیز و اقارب سے ملاقات کرتی اور کرواتی تھی۔
بابا گورونانک کے متعلق عام لوگوں نے مشہور کررکھا ہے کہ وہ بیک وقت لاھور اور کعبہ میں موجود ہوتے تھے بلکہ آج کل تو عام لوگ بھی جسمِ لطیف میں گھومنے پھرنے کے دعویدار ہیں۔ ۱۹۰۷ء میں انگلستان کے ایک اخبار میں سوال اٹھا تھا کہ کیا کسی شخص نے جسمِ لطیف میں سفر یا پرواز کی ہے؟ دو عورتوں نے اعترافی جواب دیا کہ ہمیں یہ طاقت حاصل ہے ان کے نام تھے مسز بی ای بلیر اور اے ولیم
یہ سوال و جواب پاکستان ٹائمز کی اشاعت ۱۲ اکتوبر ۱۹۵۷ء میں بھی شائع ہوئے تھے۔[۱۰]
بینہ ۱۵
قابلِ غور امر یہ ہے کہ اگر مادیت زدہ افراد سائنسی اِرتقا کے بل بوتے پر اور مختلف مشقوں اور ریاضتوں کے ذریعے اس قسم کے کمالاتِ لطیفہ کا مظاہرہ کرسکتے ہیں تو اہل روحانیت ایمانی سائنس کی روشنی میں مختلف عبادتوں اور مجاہدوں کے ذریعے کمالاتِ عجیبہ اور کراماتِ نفیسہ کا ان سے بڑھ کر مظاہرہ کیوں نہیں کرسکتے؟ جب کہ اُنہیں تائیدِ ربانی بھی حاصل ہوتی ہے ، تو پھر انبیاء کرام علیہم الصلوٰت و التسلیمات اور اولیائے عظام علیہم الرحمۃ سے بطور معجزہ و کرامت اس قسم کے کمالات ظاہر ہونے کا انکار کیسے ہوسکتا ہے؟
بحمدہ تعالیٰ حضرت امام ربانی قدس سرّہ النورانی کے ارشاداتِ عالیہ نصّاً و قیاساً، حکماً و اجتہادًا، روایتاً و درایتًا ، عقلاً و نقلاً مبنی بر حق و صواب ثابت ہوئے اللہ تعالیٰ سے التجا ہے کہ وہ سمجھنے اور ماننے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
___________________________________________________________________________________
۱۔ الانشقاق ۱۹
۲۔ تفسیر ابنِ کثیر ص ۳۱ ج ۳
۳۔ ترمذی ص ۱۸۴ ج ۲
۴۔ مشکوٰۃ المصابیح ص ۲۰۲
۵۔ ترمذی ۲۱۸ ج ۲
۶۔ زرقانی ص ۱۰۶ ج ۶
۷۔ نسائی ص ۲۳۶ ج ۱
۸۔ النبراس ۲۹۵
۹۔ القمر ۵۲، ۵۳
۱۰۔ رمز الایمان
___________________________________________________________________________________
۱۔ الانشقاق ۱۹
۲۔ تفسیر ابنِ کثیر ص ۳۱ ج ۳
۳۔ ترمذی ص ۱۸۴ ج ۲
۴۔ مشکوٰۃ المصابیح ص ۲۰۲
۵۔ ترمذی ۲۱۸ ج ۲
۶۔ زرقانی ص ۱۰۶ ج ۶
۷۔ نسائی ص ۲۳۶ ج ۱
۸۔ النبراس ۲۹۵
۹۔ القمر ۵۲، ۵۳
۱۰۔ رمز الایمان

















