Friday, September 20, 2013

مکتوب اول قسط ۸


متن: و بعد ازان یک فناءِ خاص روداد و ھمانا کہ آن تعین علمی کہ بعد از عَود تعین پیدا شُدہ بود درین فنا گم شد و اَثَرے از مَظانِ انا نماند۔ دریں وقت آثارِ اسلام و علاماتِ انہدامِ معالمِ شرکِ خُفی بظہور آمدن گرفتند و ھمچنین دیدِ قصورِ اعمال و متہم داشتن نیات و خواطر بالجملہ بعضے امارات عبودیت و نیستی ازاں باز ظاہر گشتہ اند حق سبحانہ و تعالیٰ بہ برکتِ توجہ حضرتِ ایشاں بحقیقتِ بندگی رساند

ترجمہ: اس کے بعد ایک خاص قسم کی فناء ظاہر ہوئی اور بے شک وہ تعینِ علمی جو تعینِ ذاتی کے عود (واپس لوٹنے) کے بعد ظاھر ہوا تھا وہ اس فنا میں گُم ہوگیا اور انانیّت و نفسانیت کا کوئی اثر باقی نہ رہا۔ اسی وقت اسلام کے آثار اور شرکِ خُفی کی علامات کا انہدام ظہور میں آنے لگا و ایسے ہی اعمال میں قصور اور نیتوں میں فتور رکھنا بھی نظر میں آیا و خطرات تمام  جن میں سے بعض بندگی اور نیستی کے متعلق ہیں ظاہر ہوگئے اللہ تعالیٰ نے جناب کی توجہ کی برکت سے مجھے حقیقتِ بندگی تک پہنچا دیا۔

شرح

واضح ہو کہ تعین دو ۲ قسم پر ہے۔۔۔۔۔ تعینِ جسدی اور تعینِ علمی،
جب سالک روحانی عروج کے دوران اپنی ذات اور جسم کی قید سے باہر آجاتا ہے اور اپنے آپ کو نہیں دیکھتا اور اپنے تعینِ جسدی کو فراموش کردیتا ہے تو اس وقت وہ دو ۲ حال سے خالی نہیں ہوتا یا تو اسکو اپنے سابق وجود (تعینِ جسدی) کا علم و شعور ہوتا ہے یا اپنے سابق تعین سے بھی بے خبر ہوجاتا ہے اور اپنے تعینِ جسدی و علمی سے گزر کر دائرہ لاتعین میں داخل ہوجاتا ہے جیسے روزہ دار شخص دِن بھر شدید پیاس محسوس کرتا رہتا ہے لیکن جب افطار کے وقت پانی پی لیتا ہے تو وہ بھی دو حال سے خالی نہیں ہوتا یا تو وہ دن بھر کی پیاس بدستور یاد رکھتا ہے  یا بلکل بھول جاتا ہے۔
پہلی حالت میں اگرچہ پیاس کا تعین جسدی معدوم ہے لیکن اس کا تعین علمی باقی ہے دوسری حالت میں پیاس کا تعینِ علمی بھی باقی نہ رہا۔
پیاس کا یاد رہنا یہ تعینِ علمی ہے اور بھول جانا تعینِ علمی کی فنا ہے۔
آپ فرماتے ہیں کہ عروج کے مرحلے میں وہ تعینِ علمی (اپنی انّا کا شعور) جو تعینِ ذاتی (جسدی) کے عود کے بعد پیدا ہوا تھا وہ اس فنائے خاص میں گم ہوگیا یعنی سالک کو کبھی عروج ہوتا ہے اور کبھی نزول ہوتا ہے۔ عروج کی حالت میں تعینِ علمی فراموش ہوجاتا ہے اور نُزول کی حالت میں وہ تعین پھر عود کر آتا ہے اور یہ روج و نزول کی کیفیات کبھی تھوڑی دیر کیلئے طاری ہوتی ہیں اور کبھی لمبے عرصے کیلئے باقی رہتی ہیں۔
یہاں آپ فنا کے ایک خاص مرتبے کا بیان فرما رہے ہیں جہاں آپ پر اپنے نفس کی انا کا کوئی اثر باقی نہ رہا اور شرکِ خُفی (تکبر، ریاء، خواھشاتِ نفس وغیرھا) کے دور ہونے کی علامات ظاہر ہوئیں اور حقیقی اسلام کے آثار رونما ہوئے اور اپنے اعمال کو ناقص اور نیتوں کو تہمت زدہ جاننا ظہور میں آیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بندے کو عجز و نیاز اور نیستی و بندگی کے اصل نشانات کا سراغ ملتا ہے اور مقام وجودیت و ظلیّت سے گزر کر مقامِ عبدیت پر فائز ہوتا ہے۔ وَذٰلِکَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْم۔

No comments:

Post a Comment