Friday, September 27, 2013

مکتوب اول قسط ۹ کی تشریح

 

 بینہ ۹

فقہاء کا اجتہاد مرتبہ میں مقدم ہوتا ہے کیونکہ صوفیائے کرام فقہاء عظام کے مقلد ہوتے ہیں۔ اسکی دلیل بھی صوفیاء کا تعامل ہے لہٰذا مسائلِ شرعیہ، فقہیّہ میں علماء و فقہاء کے اقوال کو معتبر سمجھا جائے گا اور مسائلِ روحانیہ ذوقیہ و احکامِ باطنیہ میں صوفیاء کے اقوال و احوال کا اعتبار کیا جائے گا کیونکہ لِکُل فَنِِّ رِجَالُُ کے مطابق ہر فن کیلئے مخصوص افراد ہوتے ہین۔

حدیث ابُو مخدورہ

صُوفیائے کرام نے لطائف کے جن مقامات کی تخصیص و تعین فرمائی ہے اسکی تائید مین مندرجہ ذیل حدیث مبارکہ ملاحطہ ہو۔
ثُمَّ وَضَعَ یَدَہ عَلیٰ نَاصِیَۃِ اَبِیْ مَحْذُوْرَۃَ ثُمَّ اَمَرَّھَا عَلیٰ وَجْہِہ مِنْ بَیْنِ ثَدْیَیْہِ ثُمَّ اَمَرَّھَا عَلیٰ کَبِدِہ ثُمَّ بَلَغَتْ یَدُ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سُرَّۃَ اَبِیْ مَحْذُوْرَۃَ ثُمَّ قَالَ رُسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَارَکَ اللہُ لَکَ وَبَارَکَ عَلَیْکَ [۱]
ترجمہ: پھر سرورِ عالم (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابُو محذورہ کے ماتھے پر ہاتھ رکھا پھر اپنا ہاتھ مبارک ان کے چہرے پر پھیرتے ہوئے سینے پر لے گئے پھر اُن کے جگر پر لے گئے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہاتھ مبارک اُن کی ناف تک پہنچا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے دُعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ تجھے برکت دے اور تجھ پر برکت نازل فرمائے۔

بینہ ۱۰

حدیثِ مذکور سے معلوم ہوا کہ حضور علیہ السّلام نے حضرت ابُو محذورہ رضی اللہ عنہ کے سر سے لیکر ناف تک ہاتھ پھیرا اور برکت کیلئے دعا مانگی۔ اِرادی طور پر جسم کے اتنے حصے پر ہاتھ پھیرنا کسی طرح بھی حکمت سے خالی نہ تھا جیسا کہ اہل بصیرت پر ظاہر ہے جب کہ جسم کا یہی حصّہ لطائف کے مقامات کا حصہ ہے۔ بہرحال حدیث سے ان مقامات کا اہم اور متعین و متبرک ہونا ثابت ہوگیا۔ (فَھُوَ الْمُرَادْ)

لطیفہ جاری ہونیکا مطلب

کسی بھی لطیفہ میں ذکر جاری ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مُضغہ گوشت یا لطیفہ کا مقام جنبش و حرکت کرتا ہے بلکہ " حرکتِ ذکر از دل بہ سمعِ خیال برسد" (ترجمہ: ذکر کی طاقت دل سے خیال کی سماعت سے پہنچتی ہے) یعنی دل سے ذکر کی حرکت خیال کے کانوں تک پہنچتی ہے اور خیال کے کان دِل کا ذکر (لفظ اللہ کا تکرار) سُنتے ہیں۔
بعض مشائک مُبتدی کیلئے مُضغہ گوشت کی ظاہری طور پر حرکت و جنبش کو ضروری سمجھتے ہیں اور اسی طریق پر مُریدین کو ذکر القاء کرتے ہیں لیکن حقیقتُ الامر یہی ہے کہ ذکرِ قلبی وغیرہ میں مقامِ لطیفہ کی حرکت ضروری نہیں۔ حضورِ قلبی (یعنی غفلت کا نا رہنا) اور اخلاص کیساتھ اور حضور مَعَ اللہ ہی لطیفہ جاری ہونے کی ضروری علامت ہے وَھُوَ الْمَقْصُوْدُ
ہمارے مشائخ نے فرمایا
حَقِیْقَۃُ الذِّکْرِ رَفْعُ الْغَفْلَۃِ
(ترجمہ: ذکر کی حقیقت غفلت کا نا رہنا ہے)

No comments:

Post a Comment