Wednesday, September 18, 2013

مکتوب اوّل قسط ۳ کی شرح



بینہ ۴: تجلیّاتِ اسماء و صفات لاتعداد ہیں اور حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے مراتِب مشاہدات بھی بے شمار ہیں۔
شہودِ ممکنات کے مرتبے میں آپ اسم الظاھِرُ کی تجلیات مشاھدہ فرماتے اور شہودِ ذات کے مرتبے میں اسم الباطِنُ کی بے کیف تجلیّات سے فیضیاب ہوتے۔ عورت کا وجود شہودِ ممکنات کا مرتبہ ہے، خوشبو اور نماز شہودِ ذات کا مرتبہ ہے، کیونکہ خوشبو روائح طیبّہ سے ہے اور اس کا تعلق نفسِ الٰہی اور ریحُ الرحمان کے ساتھ ہے جیسا کہ حدیث میں ہے۔ اِنِّیْ لَاَجِدُ نَفْسَ الرَّحْمَانِ مِنْ ھَاھُنا [۱] (ترجمہ: میں خوشبو میں رحمٰن کو پاتا ہوں)
اور نماز رویتِ الٰہی، مشاھدہ ذات اور معراج المومنین کا مقام ہے جیسا کہ حدیثِ احسان میں ہے اَنْ تَعْبُدَ اللہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ [۲] (ترجمہ: اللہ کی ایسے عبادت کر جیسے تو اسے دیکھ رہا ہے)
یہی وجہ ہے کہ شہودِ ممکنات کے مرتبے میں آپ نے عورت کو اور شہودِ ذات کے مرتبے میں خوشبو اور نماز کو محبوب قرار دیا جب آپ شہودِ ممکنات (مشاہدہِ تجلیّاتِ اسم الظَّاھِرُ) سے فارغ ہوتے تو لِیْ مَعَ اللہِ وَقْتُُ لَا یَسَعُنِیْ فِیْہِ مَلَکُُ مُقَرَّبُُ وَلَا نَبِّیُُ مُرْسَلُُ [۳](ترجمہ: میرا اللہ کے ساتھ ایک ایسا وقت بھی ہوتا ہے جس میں نہ کسی مقرب فرشتے کی گنجائش ہے نہ کسی نبی مرسل کی) کے مرتبہِ شہودِ ذآت (مشاھدہ تجلیّات اسم الباطِنُ) میں مصروف ہوجاتے لیکن چونکہ آپ جامع شہودِ تجلیّات تھے لہٰذا ایک ہی وقت میں تجلیّاتِ متعددہ سے لطف اندوز رہتے۔ آپ کا ظاھِرِ تجلیّاتِ اسم الظَّاھِرُ اور باطنِ تجلیّات اسم الباطِنُ سے شاد کام رہتا۔

اُدھر اللہ سے واصل اِدھر مخلوق میں شامل
خواص اس بزرخِ کُبریٰ میں ہے حرفِ مشدّد کا

بَیِّنَات

*حدیثِ مذکور میں حُبِّبَ (بلفظ مجہول) فرمایا گیا ہے یعنی یہ تین اشیاء میرے لئے محبوب بنائی گئیں ثابت ہوا کہ فی الحقیقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت تو صرف ذاتِ حق سے ہے باقی محبتیں مصلحتًا آپ پر مسلّط کی گئیں۔
*نیز فرمایا مِنْ دُنْیَاکُمْ تمہاری دنیا سے "معلوم ہوا کہ خود حضور صلّی اللہ علیہ وسلم حقیقت کے اعتبار سے اس دُنیا میں سے نہیں بلکہ آپ اللہ تعالیٰ کے نور سے ہیں اور یہ دُنیا آپ کے نُور سے مخلوق ہوئی جیسا کہ حدیث میں ہے۔

اَنَا مِنْ نُّوْرِ اللہِ وَ الْخَلْقُ کُلُّھُمْ مِنْ نُّوْرِی [۴](ترجمہ: میں خدا کے نور سے ہوں اور تمام مخلوق میرے نور سے ہے)
اسی طرح امام ربانی قدّس سرّہ نے ارشاد فرمایال
ھرچند بدقّتِ نظر صحیفہ ممکناتِ عالم را مطالعہ نمودہ می آید وجودِ آنسرور آنجا مشہود نمی گردَّد [۵](ترجمہ: جسقدر بھی باریک نظری کے ساتھ ممکناتِ عالم کے صحیفے کا مطالعہ کیا جاتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وجودِ مبارک عالم ممکنات میں دکھائی نہیں دیتا)
 اسی مکتوبِ گرامی میں چند سطور کے بعد آپ فرماتے ہیں

وچوں وجودِ آنسرور عَلَیْہِ وَعَلَیٰ اٰلِہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ در عالم ممکنات نباشد بلکہ فوق این عالَم باشد ناچار اُورا سایہ نبود۔
(ترجمہ: جب حضور سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود مبارک عالمِ ممکنات میں سے نہیں بلکہ اس عالم سے بلند ہے تو لازماً آپ کے جسم مبارک کا سایہ نہیں ہوسکتا) حضرت امام ربانی قدس سرّہ نے سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ نہ ہونے کی دو ۲ وجہیں بیان فرمائی ہیں۔
پہلی وجہ یہ کہ آپ کا وجود مبارک عالمِ مُمکنات سے بلند ہے اور شمس و قمر کا نظام ممکنات سے وابستہ ہے

بود برتر ز انجم و افلاک
زاں نیفتاد سایہ اش بر خاک
(ترجمہ: ستارے اور آسمانوں سے اونچے تھے اسلئے انکا سایہ خاک پر نہیں پڑتا تھا)

دوسری وجہیہ ہے کہ آپ کا وجودِ مبارک نور ہونے کی بنا پر تمام ممکنات سے لطیف ہے لہٰذا آپ کے جسم مبارک کی اعلیٰ لطافت کی وجہ سے آپ کا سایہ کیسے ہوتا؟ کیونکہ سایہ جسم سے زیادہ لطیف ہوتا ہے اور آپکا جسم مبارک سائے سے بھی زیادہ لطیف تھا۔

*واضح ہو کہ آپ کے لئے دُنیا میں صرف تین ۳ چیزیں محبوب بنائی گئیں اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ آپکی ذاتِ مبارکہ مظہرِ کمالاتِ ثلاثہ ثابت و ظاہر ہوجائے۔ جیسا کہ صوفیائے کرام نے صراحت فرمائی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کمالاتِ بشری ملکی اور حقّی کے جامع ہیں۔
عورتوں کے لباس میں آپ کے بشری کمال کا اظہار ہوا اور نماز کی صورت میں آپ کے ملکی کمال کا مظاہرہ ہوا اور خُوشبو کے رنگ میں آپ کا حِقّی کمال ظاہر کیا گیا۔ وَاللہُ اَعْلَمُ بِحَقِیْقَۃِ الْحَالِ
رَبَّنَا لَا تُئَواخِذْنَآ اِنْ نَّسِیْنَآ اَوْ اَخْطَانَا
___________________________________________________________
۱۔ذکرہ السیوطی فی الجامع الکبیر و اشارالی الیمن یہ روایت ان الفاظ میں بھی ملتی ہے انی لاجد نفس الرحمٰن من قبل الیمن (تفسیرِ کبیر ص۶ ج ۲۳ فتوحاتِ مکیّہ ص ۲۱۷ ج ۱)
۲۔بخاری ص ۱۲ ج ۱، مُسلم ص ۲۹ ج ۱
۳۔قال الامام السخاوی علیہ الرحمۃ (المتوفی ۹۰۴ھ) لی مع اللہ وقتُُ لایسعُ فیہ ملکُُ مقربُُ ولانبی مرسل یذکرہ المتصوفۃ کثیراً وھو فی الرسالۃ القشیریہ لٰکن بلفظ لی وقت لایسعنی فیہ غیر ربّی۔ ویشبہ ان یکون معنیٰ ماللترمذی ولابن راھویۃ فی مسندہ عن علیٰ فی حدیث طویل کان صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اذا اٰتیٰ منزلہ جزاً دخولہ ثلاثۃ اجزاء جزا لِلّٰہِ تعالیٰ و جزاَ لاھلہ و جزاً لنفسہ ثم جزاہ بینہ و بین الناس المقاصد الحسنہ ص ۲۵۸، شمائلِ ترمذی ص ۲۴
۴۔شرح قصیدہ خرپوتی
۵۔دفتر سوئم مکتوب ۱۰۰

No comments:

Post a Comment