متن: وھمچنین در ھر طعامی و شرابی در کسوتی جُدا جُدا متجلی شد لطافتی و حُسنی کہ در طعامِ لذیذ پُرتکلف بود در ماوراءِ آن نبود و در آبِ شیریں تا آبِ غیر شیریں ھمیں تفاوت بود بلکہ در ھر لذیذ و شیریں یک خصوصیتِ کمال علیٰ تفاوُت الدَرَجات جُدا جُدا بود خصوصیات این تجلی را بتحریر بعرض نمیتواند رسانید اگر در ملازمت عَلِیّہ می بود شاید معروض میداشت۔
ترجمہ: اور اسی طرح اسم الظَّاھِرُ کی تجلی کا ظہور کھانے ، پینے اور پہننے کی چیزوں میں الگ الگ ہوا جوعمدگی اور خوبی لذیذ و پُرتکلف کھانے میں تھی وہ کسی اور کھانے میں نہ تھی اور میٹھے پانی میں بھی دوسرے پانی (کھاری) کے مقابلہ میں یہی فرق تھا بلکہ ہر لذیذ و شیریں چیز میں خصوصیاتِ کمال میں سے اپنے اپنے درجے کے مطابق الگ الگ ایک خصوصیت تھی۔ یہ خادم اس تجلّی کی خصوصیات کو بذریعہ تحریر عرض نہیں کرسکتا۔ اگر آنجناب کی خدمت میں حاضر ہوتا تو شائد عرض کرسکتا۔
شرح
کھانے پینے کی پُرتکلّف اور لذیذ اشیاء میں دوسری عام اشیائے خورد و نوش سے زیادہ تجلی اور لطافت کا معلوم ہونا اور میٹھے پانی سے لیکر پھیکے اور کڑوے پانی تک میں بھی فرق محسوس کرنا اس وجہ سے ہے کہ اشیاءِ ممکنات عدم سے ظہور میں آئی ہیں اور عدم سراسر ظلمت، کدورت اور کڑواھٹ سے متہم ہے اس لئے جب عدم نے ظلالِ صفات کے پَرتَو سے وجود کا لباس پہنا تو ان تجلیاتِ ظلالِ صفات سے اشیائے ممکنات میں حُسن و خوبی اور لذت و حلاوت کی خصوصیات پیدا ہوئیں لیکن چونکہ لذیذ کھانے اور میٹھے پانی میں اِنعکاس زیادہ تھا اور غیز لذیذ و کڑوی اشیاء میں انعکاس کی کمی یا زیادتی اور ان کے درجات و استعدادات کے اِختلاف کی بنا پر مشہود ہوئیں (واللہ اَعْلَمُ بِحَقِیْقَۃِ الْحَالِ)

No comments:
Post a Comment