Thursday, September 19, 2013

مکتوب اول قسط ۵




متن: اَمّا در اَثناءِ این تجلیّات آرزوی رفیقِ اعلیٰ داشتم وماینہا مَھّمَا امْکن ملتفت نمیشدم امّا مغلوب بودم چارہ نداشتم

ترجمہ: لیکن ان تجلیات کے وقت رفیقِ اعلیٰ کی آرزو رکھتا تھا اور ان کیطرف ممکن حد تک بے توجہ رہتا تھا لیکن میں مغلوب تھآ کوئی چارہ نہیں دیکھتا تھا۔

شرح

چونکہ سالکین حضرات اپنی اپنی استعداد میں تفاوُت رکھتے ہیں بعض ناقص استعداد والے اس قسم کی تجلیات کے سامنے مغرور یا مفرور ہوکر طلب اور عروج سے باز رہ جاتے ہیں اور اسی مقام پر قناعت کرلیتے ہیں اور بعض کامل استعداد والے مشاہدہِ تجلیّات کے وقت ثابت قدم رہتے ہیں چونکہ امام ربانی کی استعدادِ کامل تر اور ہمت بُلند تھی اسلئے ان تجلیّاتِ ظلالِ صفات کے سامنے آپ کے حواس بھی قائم رہے اور رفیقِ اعلیٰ (ذاتِ حق) کی طلب بھی بدستور موجود رہی۔

بینہ ۵: "رفیقِ اعلیٰ" اللہ تعالیٰ کا ایک اسم مبارک ہے بعض کے نزدیک انبیاء کی جماعت مُراد ہے جو اعلیٰ علییّن میں رہتی ہے اور بعض نے رفیقِ اعلیٰ سے بہشت مُراد لی ہے۔ نزع کے وقت محبوبِ خُدا صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ اقدس پر یہ کلمات تھے۔ اللّٰھُمَّ الرَّفِیْقَ الْاَعْلٰی [۱](ترجمہ: اے اللہ! مجھے رفیقِ اعلیٰ سے ملا دے)
___________________________________________________________________________________
۱۔یہاں اس حدیث کی طرف اشارہ ہے جس کو امام بخاری و مسلم نے حضرت سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بیان میں روایت کیا ہے۔

No comments:

Post a Comment