Friday, September 20, 2013

مکتوب اوّل قسط ۷


متن: و ظاہر را کہ ازاں نسبت خالی و معطل بود باین تجلی مشرف ساختہ اند و الحق ھمچنان یافتم کہ باطن اصلاً بزیغ بصر مبتلا نیست و از جمیع معلومات و ظہورات مُعرض است و ظاہر کہ متوجہ کثرت و اثنینیۃ بود باین تجلیّات مستعد گشتہ است بعد از چندگاہ این تجلیات رُو بخفا آوردند ھمان نسبتِ حیرت و نادانی بحالِ خود ماند و صَارَت تلک التجلیاتُ کاَنْ لم یکن شیئا مذکورا

ترجمہ: اور ظاہر کا کہ اس نسبت سے خالی و تہی تھا اس تجلی سے سرفراز کیا اور خاص حق کو اس طرح میں نے پایا کہ باطن کجیِ بصارت میں مبتلا نہیں ہے اور کل علوم و ظہورات سے معرض ہے اور ظاہر کہ کثرت اور دوئی میں متوجہ تھا ان تجلیات سے تیار ہوگیا ہے ان تجلیات کے بعد سے اچانک سب ختم ہوگیا وہی حیرت اور اپنے حال سے ناواقفیت باقی رہی

No comments:

Post a Comment