بینہ ۸
واضح ہو کہ لطائفِ عالمِ امر کو کمالاتِ ولایت کے ساتھ مناسبت ہے اور لطائف عالمِ خلق کو کمالاتِ نبوت کے ساتھ زیادہ مناسبت ہے۔ عالمِ امر کے پانچوں لطیفوں میں سے ہے ایک لطیفہ کو عالمی خلق کے کسی نہ کسی لطیفہ کیساتھ مناسبت ہوتی ہے، مثلاً لطیفہ قلب کو لطیفہ نفس کیساتھ لطیفہ روح کو لطیفہ آب کیساتھ لطیفہِ سِرّ کو لطیفہ باد کیساتھ، لطیفہِ خفی کو لطیفہِ نار کیساتھ، لطیفہِ اخفیٰ کو لطیفہِ خاک کے ساتھ [۱]
نیز یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ عالمِ خلق کے لطائف عالم امر کے لطائف کی اصل ہیں اور لطیفہِ باد (ہوا) کا معاملہ لطیفہِ روح کے معاملے کی اصل ہے۔ لطیفہِ نار (آگ) کا معاملہ لطیفہِ کفی کے معاملے کی اصل ہے۔ لطیفہِ خاک (مٹی) کا معاملہ لظیفہِ اخفیٰ کے معاملے کی اصل ہے۔ [۲]
مقاماتِ لطائفِ عالمِ خلق
لطیفہِ نفس
یہ عالمِ خلق کا پہلا لطیفہ ہے سلسلہِ نقشبندیہ میں اسکا مقام وسطِ پیشانی یا اُم الدماغ ہے بعض کے نزدیک اس کا مقام زیرِ ناف ہے۔ اگرچہ بظاہر اکتلاف معلوم ہوتا ہے لیکن اربابِ عرفان کے نزدیک ابتداء اور انتہاء کا فرق ہے۔ حضرت امام ربانی مجدّد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے یوں تطبیق فرمائی ہے کہ اس کا سر اُمُّ الدماغ یا وسطِ پیشانی ہے اور اس کا قدم متصلِ زیرِ ناف ہے۔ (اہلِ کشف کے نزدیک ہر دو۲ مقام نفس کے لحاظ سے برابر ہیں) اسکا نور سبز اور نیلگوں ہے اسکی تاثیر نفسانیت اور سرکشی کے مٹ جانے، عجز و انکساری کا مادہ پیدا ہونے اور ذکر میں ذوق و شوق بڑھ جانے سے ظاہر ہوتی ہے۔
لطیفہِ قالبیہ
یہ عالم خلق کا بظاہر دوسرا لطیفہ ہے لیکن درحقیقت چاروں لطائف (ہوا، پانی، آگ اور مٹی) پر مشتمل ہے۔ اس کا مقام سارا قالب (جسم) ہے۔(بعض کے نزدیک متصلِ ناف ہے) اسکی علامت ہر جزوِ بدن اور بال بال سے ذکر کا جاری ہوجانا ہے۔اسکی تاثیر رزائلِ بشریہ اور علائقِ دنیویہ سے مکمل رہائی پالینے سے ظاہر ہوتی ہے اس کا نُور آتش نُما ہے۔[۳]
مقاماتِ لطائف کا ثبوت
لطائف کے مقامات کے تعین و ثبوت کیلئے صوفیائے فنِ طریقت کی تصریحات و تعلیمات ہی دلیل کیلئے کافی ہیں کیونکہ وہ احکامِ روحانیہ باطنیہ کے مجتہد ہوتے ہیں۔
جس طرح فقہائے مجتہدین احکامِ ظنّیہ ، ظاہرہ کا استنباط کرتے ہیں اسی طرح صوفیائے مجتہدین بھی احکامِ ظنّیہ باطنیہ کا استخراج کرتے ہیں اور جس طرح قیاس و رائے کی صحت کا میعار کتاب و سُنت کی موافقت ہے اور یہ امر بھی مُستحضر رہے کہ کشف و الہام اور فراست و بصیرت کا نُور صوفیاء و فقہاء کی برابر رہنمائی کرتا رہتا ہے جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔
أَفَمَن شَرَحَ ٱللَّهُ صَدْرَهُۥ لِلْإِسْلَـٰمِ فَهُوَ عَلَىٰ نُورٍۢ مِّن رَّبِّهِ [۴]
ترجمہ:تو کیا جس کا سینہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کیلئے کھول دیا تو وہ اپنے ربّ کی طرف سے نُور پر ہے۔
فتح الباری میں ہے۔
اِنَّمَا الْاِلْھَامُ نُوْرُُ یَختَصُّ بِہ اللہُ تَعَالیٰ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہ [۵]
ترجمہ: الہام ایک نُور ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اسکے ساتھ مخصوص فرمالیتا ہے۔
___________________________________________________________________________________
۱۔ملخصاً مکتوباتِ معصومیہ دفتر اول مکتوب ۲۱۳
۲۔مکتوباتِ معصومیہ دفتر سوئم مکتوب ۴
۳۔تفسیرِ مظہری الحدیقۃُ الندیہ، اسرارِ طریقت، عمدۃُ السلوک وغیرہ
۴۔ الزُمر ۲۲
۵۔کتاب التعریفات
۴۔ الزُمر ۲۲
۵۔کتاب التعریفات

No comments:
Post a Comment