Friday, September 13, 2013

مکتوب اوّل قسط ۲ کی مزید تشریح

تجلّی کا مفہوم


* تَجَلَّی الشَّئْیُ : تَکَشَّفَ وَبَانَ وَ ظَھَرَ [۱]
ترجمہ: یعنی تجلی کسی شے کے منکشف اور ظاہر ہونے کا نام ہے۔

*تجلی کے معنی ہیں چمکنا، ظاہر، منکشف ہونا، صوفیاء کے نزدیک تجلی کا تصور یہ ہے کہ ذاتِ حق تعالیٰ نور ہے یہ نور گویا جب صورتوں پر جلوہ گر ہوکر چمکتا ہے تو وہ اسی تجلی کو ظہور، سریان اور مظہر سے تعبیر کرتے ہیں۔

*حضرت سیّد شریف علی بن محمد جرجانی نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ اصطلاحاتِ صوفیاء کے بیان میں تحریر فرماتے ہیں۔
اَلتَّجَلِّیُ مَا یَنْکَشِفُ لِلْقُلُوْبِ مِنْ اَنْوَارِ الْغُیُوْبِ [۲]
ترجمہ: یعنی غیبی انوار کے دِلوں پر منکشف ہونے کا نام تجلی ہے۔

*حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی مجدّدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔
اَلتَّجَلِّیُ :- ظُھُوْرُ الشَّئْیَ فِی الْمَرْتَبَۃِ الثَّانِیَۃِ کَظُھُوْرِ زَیْدِِ فِی الْمِرْاَۃِ [۳]
ترجمہ: کسی شے کے دوسرے مرتبہ میں ظہور کو تجلی کہتے ہیں جیسے زید کی صورت کا آئینے میں ظاہر ہونا۔

*حضرت امام ربّانی مجدّد الف ثانی قدس سرہُ العزیز تجلی کا مفہوم یوں واضح فرماتے ہیں: تجلی عبارت از ظہورِ شئ است در مرتبہ ثانی یا ثالث یا رابع اِلٰی مَا شَا ءَ اللہُ [۴]
ترجمہ: یعنی کسی شے کے دوسرے یا تیسرے یا چوتھے مرتبے مییں (جہاں تک اللہ تعالیٰ چاہے) ظاہر ہونے کو تجلی کہتے ہیں۔

بینہ ۱: تصریحاتِ بالا سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ آیتِ مبارکہ فَلَمَّا تَجَلَّىٰ رَبُّهُ (پھر جب ان کے پروردگار نے تجلی فرمائی) [۵] میں تجلی سے عین ذات کی تجلّی و رویت مراد نہیں۔

اصول: یہاں تجلی کی شرح شے سے متعلق نسبتوں کے تحت کی گئی ہے خدا ماورئے تصور و گمان و وہم واحدہ لاشریک بے مثال و بے قیاس ھستی ہے اسلئے اس تشریح کو صرف تفہیم معاملات کے ضمن میں سمجھیں ورنہ تجلی مشاہدہ کی کیفیت بیان کی حد سے باہر ہے۔[۶]
_____________________________________________________
۱۔معجم الفاظ القرآن
۲۔کتاب التعریفات ص ۱۱۷
۳۔ تفسیر مظہری ص ۴۰۶ ج ۳
۴۔دفتر اول مکتوب ۲۲۱
۵۔الاعراف ۱۴۳
۶۔شاہ جہاں

No comments:

Post a Comment