بَیِِّنَات
*صوفیائے وجودیہ کے نزدیک تمام اشیائے کائنات کی صورتوں میں اللہ تعالیٰ کی تجلیات ظہور پذیر ہوتی رہتی ہیں اور وہ تمام مخلوقات کو حق تعالیٰ کے ظہورات قرار دیتے ہیں اور اسی بنیاد پر وہ اشیائے کائنات کو عین وجودِ حق تسلیم کرتے ہیں اور امکان و وجوب کو جمع کرتے ہیں جیسا کہ حضرت ابن عربی قدس سرہ فرماتے ہیں
وَصُوَرُ الْعَالَمِ لَایُمْکِنُ زَوَالُ الْحَقِّ عَنْھَا اَصْلاً [۱]
ترجمہ: اور عالم(کائنات) کی شکلوں سے حقِ تعالیٰ کا جُدا ہونا ممکن نہیں
*لیکن صوفیاءِ شہودیہ اشیائے کائنات میں وجودِ حق کی بجائے شہودِ حق کے قائل ہیں اور حق تعالیٰ کی ذات کو کائنات سے وراءُ الوراء جانتے ہیں اور امکان و وجوب کو ایک دوسرے کی ضد مانتے ہیں اور فرمانِ رسالت علیٰ صاحبہا الصلوات و التسلیمات رَاَیْتُ رَبِّی فِیْ اَحْسَنِ صُوْرَۃِِ [۲](میں نے پروردگار کو اچھی صورت میں دیکھا) اور آیت کریمہ
فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا۟ فَثَمَّ وَجْهُ ٱللَّهِ [۳](ترجمہ: تو جدھر تم رخ کرو۔ ادھر خدا کی ذات ہے) اس سے اللہ تعالیٰ کا شہود مراد لیتے ہیں اور ذاتِ حق کو صورتوں اور جہتوں سے منزہ مانتے ہیں۔ البتہ وہ شکلوں و صورتوں کو مظاھرِ ظلالِ صفات قرار دیتے ہوئے اس شہود کو مجازاً تجلّی صوری کے نام سے تعبیر کرت ہیں اور اس قسم کی تجلی کو سیر آفاقی کا حصّہ قرار دیتے ہیں۔
جیسا کہ حضرت امام ربانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا۔
تجلیّاتیکہ در صورِ حسی و مثالی و آنچہ در پردہ انوار است ہمہ داخلِ سیرِ آفاقی است [۴]
ترجمہ: وہ تمام تجلیات جو حسی اور مثالی صورتوں اور مختلف انوار کے پردوں میں سالک کو نظر آتی ہیں وہ سب سیر آفاقی میں داخل ہیں
*سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجدّدیہ میں اسماء و صفات کے اذکار و تکرار کی بجائے تکرار اسمِ ذات و اذکارِ نفی اثبات کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں کیونکہ اس نسبت کا منتہاء و مقصود فقط ذاتِ حقّ ہے نہ کہ صرف اسماء و صفات۔ یہی وجہ ہے کہ اس سلسلہ کے اکابری تجلیّاتِ ظلیہ صفاتیہ سے قرار نہیں پکڑتے بلکہ تجلیات اصلیہ ذاتیہ سے صبر و سکون پاتے ہیں اور انکی نسبتِ خاصہ بھی تجلی ذاتی ہے نہ کہ صرف تجلی برقی فَفْھَمْ
*واضح رہے کہ اسم اَلظاھِرُ و الباطن کے انوار و معارف کا ظہور "یَاظَاھِرُ یَا بَاطِنُ" کے وظیفہ و تکرار پر موقوف نہیں بلکہ ان کا تعلق مراقبہ و عرفانِ توحید اور منازلِ سلوک طے کرنے کیساتھ ہے۔
*صوفیائے نقشبندیہ نے سالک کی ترقی کیلئے ابتداء میں تکرارِ اسم ذات مقرر فرمایا ہے اور متوسط و منتہی کیلئے ابتداء میں نماز کے باہر تلاوتِ قرآن پاک اور انتہاء میں نماز کے اندر تلاوت قرآن پاک کا مشورہ دیا ہے اور یہی چریقہ ان کے نزدیک وصول اِلیٰ اللہ کے لیے اَنْسب و اَسْبق ہے۔
*سالک کو ابتدائی مرحلے میں تکرارِ اسمِ ذات کا سبق اسلئے دیا جاتا ہے کہ ذکر اسمِ ذات جذب و محبت کا ذریعہ ہے اور عالمِ وُجوب کیطرف میلان و پرواز کا موثر سبب ہے۔ فرمانِ رسالت علیٰ صاحبہا الصلوات کے مطابق مَنْ اَھَبَّ شَیْئًا اَکْثَرَ ذِکْرَہ [۵] (ترجمہ: جو کسی شئ سے محبت رکھتا ہے اسکا ذکر بھی کثرت سے کرتا رہتا ہے) ذکرِ محبوب، علاماتِ محبت میں سے ہے اور جذبہ محبت ہی سالک کو کثرتِ ذکر پر مجبور کرتا ہے کیونکہ مسمّٰی کی محبت اسم کی محبت پر دلالت کرتی ہے۔
*سالک کو تکرارِ اسم ذات کی برکت سے مراتبِ وجوب کا شہود نصیب ہوتا ہے اور یہ فیضِ شہود اس کو کشف کی راہ سے مسلسل محسوس ہوتا رہتا ہے اگر سالک صاحبِ کشف نا بھی ہو تو وجدان اور ذوقِ باطنی کے ذریعے اسکو حجابات اُٹھنے کا احساس اور لذّتِ قُرب کی یافت ہوتی رہتی ہے۔
*متوّسط کیلئے تکرارِ نفی اثبات اسلئے مقرر فرمایا ہے کہ وہ ظِلال کی ولایت سے اصل تک پہنچے۔ منتہی کیلئے تلاوتِ قرآن اس لیے ضروری قرار دی جاتی ہے تاکہ ظلال اور نفس کی گرفتاری سے فارغ ہوکر اللہ تعالیٰ سے ھم کلامی کا شرف پائے اور اسرارِ ربانی کو سمجھ سکے۔ وَبِاللہِ التَّوْفِیْق
__________________________
۱۔فصوص الحکم کلمہ نوحیہ
۲۔ترمذی ص ۱۸۶ ج ۲
۳۔البقرۃ ۱۱۵
۴۔مکتوبات امام ربانی
۵۔کنزالعمال ص ۴۲۵ ج

No comments:
Post a Comment