Friday, September 13, 2013

مکتوب اوّل قسط ۲ کی مزید تشریح


تمام اشیاء میں تجلّی اسم الظاھر کے ظہور کا مفہوم
حضرت امام ربانی قدس سرہ فرماتے ہیں۔
" اثنائے راہ سلوک میں حق تعالیٰ اسم ظاھر کی تجلی سے اس قدر جلوہ گر ہوا کہ تمام اشیاء میں خاص تجلی کیساتھ علیحدہ علیحدہ ظاہر ہوا"
اس مضمون کو سمجھنے کیلئے درج ذیل حقائق پیشِ نظر رہنے چاہئیے!
*طریقِ سلوک میں جب سالک کا مراقباتِ اسماء و صفات سے گزر ہوتا ہے تو سالک کیلئے چار اسماء یا چار صفات کی سیر بنیادی ارکان کی حیثیت رکھتی ہے اور وہ یہ ہیں۔ ٱلْأَوَّلُ وَٱلْءَاخِرُ وَٱلظَّـٰهِرُ وَٱلْبَاطِنُ
ان مراقبات میں آیتِ مبارکہ ٱلْأَوَّلُ وَٱلْءَاخِرُ وَٱلظَّـٰهِرُ وَٱلْبَاطِنُ کا مفہوم واضح ہوتا ہے اور ان اسماء و صفات پر غور و تدبر سے سالک پر ان کے اسرار و انوار منکشف ہوتے ہیں۔ خاص کر اسم ٱلظَّـٰهِرُ وَٱلْبَاطِنُ سالک کے روحانی عروج کیلئے دو پر یا دو بازو ہیں جن کے ذریعے عالم قِدس کیطرف پرواز ہوتی ہے۔
صوفیاء کے نزدیک اسم ٱلظَّـٰهِرُ کی تجلیات کا مقتضیٰ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب اور محیط ہے اور ہر شے سے اسکے جلوے ظاہر ہورہے ہیں اور اسم ٱلْبَاطِنُ کی تجلیات سے یہ راز کھلتا ہے کہ وہ ہر شے کی ذات سے بھی اس شئی کے زیادہ قریب ہے ان دونوں اسموں کی سَیر سے سالک کو یقین ہوجاتا ہے کہ حق تعالیٰ اتنا ظاہر ہے کہ ہر چیز کا وجود اس کی ذات پر دلالت کرتا ہے اور ذرّے سے لیکر آفتاب تک سب کچھ اسکے وجود کی شہادت دیتا ہے اور باطن اتنا ہے کہ قُرب کے باوجود ہر شے اسکے حقیقت کے اِدراک سے عاجز و قاصر ہے۔

برگِ درختانِ سبز در نظر ھوشیار
ھر ورق دفتریست معرفتِ کردگار
(شیخ سعدی رح)

(ترجمہ:سبز درختوں کے پتے بھی دانشمند کی نظر میں ایسے ہیں کہ ایک ایک پتا خدا کی معرفت کا دفتر ہے)

سیر اسماء و صفات

صوفیہ کرام کے مطابق سیرِ اسماء و صفات کے مفہوم اس آیت سے ماخوذ ہے
وَلِلَّهِ ٱلْأَسْمَآءُ ٱلْحُسْنَىٰ فَٱدْعُوهُ بِهَا [۱](ترجمہ: اور خدا کے سب نام اچھے ہی اچھے ہیں۔ تو اس کو اس کے ناموں سے پکارا کرواور خدا کے سب نام اچھے ہی اچھے ہیں۔ تو اس کو اس کے ناموں سے پکارا کرو)

اسماءِ الحُسنیٰ

اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات تو لامُتناھی ہیں لیکن ان سب کا مرجع نناوے اصولِ متناہیہ کیطرف ہے انہیں اسمائے حسنیٰ سے تعبیر کیاجاتا ہے۔

امہات اسماء

اسماء حُسنیٰ کا مرجع آٹھ اصولوں کی جانب ہے جنہیں امہات اسماء کہتے ہیں اور وہ یہ ہیں حیات، علم، قدرت، ارادہ، سمع، بصر، کلام اور تکوین نتیجتاً ان تمام اسماء کا مرجع ایک اصل کی جانب ہے اور وہ اسم اللہ ہے جو جامع ہے جمیع اسماء الٰہیہ کا اور شامل ہے جمیع صفاتِ الٰہیہ کو۔

احصائے اسماء

سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اِنَّ لِلّٰہِ تِسْعَۃً وَّ تِسْعِیْنَ اِسْمًا مِائَۃً اِلَّا وَاحِدً مَنْ اَحْصَاھَا دَخَلَ اَلْجَنَّۃَ [۲]
ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ کے نناوے ۹۹ اسماء ہیں جس نے انکا احصاء کرلیا وہ جنت میں داخل ہوا۔
یہاں احصائے اسماء سے مراد اسمائے حق تعالیٰ سے متحقق اور متخلق ہونا ہے صرف ان اسماء کا وظیفہ کرنا اور انکا تلفظ یا تکرار یا شمار مراد نہیں۔

دائرہ اسماء

دوائرِ محبت میں پہلا دائرہ اسماء کا ہے۔ سالک مبتدی جب مسمیٰ تک نہیں پہنچ سکتا تو اسم سے ہی اپنے دل کو تسلی دے لیتا ہے۔ اس دائرے میں سالک کو معرفتِ ذات بواسطہ اسماء کی تعلیم دی جاتی ہے۔

دائرہِ صفات

دوسرا دائرہ صفات کا ہے۔ اس دائرے میں سالک صفات کے پرتو سے فیض یاب ہوتا ہے اور کائنات میں ہر طرف اللہ تعالیٰ کی قدرت اور صنعت کے نمونے اسکی صفات کے مَظہر نظر آتے ہیں۔ اس دائرے میں معرفتِ ذات بواسطہ صفات کی تربیت دی جاتی ہے۔

دائرہِ ذات

تیسرا دائرہ ذات کا ہے۔ اس دائرے کی وسعت لامحدود ہے ۔ اس میں نہ اسماء پیش نظر ہوتے ہیں نہ صفات بلکہ اس میں معرفتِ ذات بلاواسطہ اسماء و صفات کا سبق دیا جاتا ہے۔

سیرِ دوائر

حضرت امام ربّانی قدس سرہ فرماتے ہیں۔
سَیر در اسم الظاھر سیر در صفات است بے آنکہ درضمنِ آنھا ذات ملحوظ گردد تَعَالیٰ و تَقَدَّسَ و سَیر در اسم الْبَاطن نیز ھرچند سَیر در اسماء است اما در ضمن آنھا ذات تعالیٰ ملحوظ است و آن اسماء در رنگ سِپَر ھا اند کہ روپوش حضرت ذات تعالیٰ و تقدس گشتہ مثلاً در صفتُ العلم ذات تعالیٰ اصلاً ملحوظ نیست و در اسمُ العلیم ملحوظ ذات است تعالیٰ در پس پردہِ صفت زیراکہ علیم ذاتے است کہ مُراد را علم است۔ فَالسَّیْرُ فِی الْعِلْمِ سَیْرُُ فِی الْاِسْمِ الظَّاھِرِ وَالسَّیْرُ فِی الْعَلِیْمِ سَیْرُُ فِی الْاِسْمِ الْبَاطِنِ وَقِسُ عَلیٰ سَائِرَ الصِّفَتِ وَالْاَسْمَاءِ [۳]

ترجمہ: اسم الطاھر کی سیر صفات میں ہے بغیر اس بات کے کہ اس ضمن میں ذات ملحوظ ہو اور اسم الباطن کی سیر بھی اگرچہ اسماء میں ہے لیکن اس کے ضمن میں ذات ملحوظ ہے اور یہ اسماء ڈھالوں کیطرح ہیں جو حضرت ذات کے حجابات ہیں مثلاً صفت علم میں ذات ملحوظ نہیں لیکن اس کے اسم علیم میں پردہ صفت کے پیچھے ذات ملحوظ ہے کیونکہ علیم ایک ذات ہے جس کی صفت علم ہے پس علم میں سیر اسم الظاہر کی سیر ہے اور علیم میں سیرِ اسم الباطن کی سیر ہے باقی تمام اسماء و صفات کا حال اسی قیاس پر ہے۔

مراقبہ اسم الظاھر

مراقبہ اسم الظاھِر میں منشاء فیض وہ ذات حق تعالیٰ ہے جس کے اسماء مبارکہ میں سے ایک اسم مبارک "الظاھِرُ" ہے۔ اسکا موردِ فیض لطیفہ نفس (مع لطائفِ خمسہ) ہے۔ اس مراقبے میں سیر اسماء و صفات کی تجلیات میں ہوتی ہے بغیر ملاحظہ ذات تعالت و تقدست کے پس سالک کی سیر تجلیاتِ صفات میں مظاہر اسم الظاھر کی سیر ہے اور سالک کی سیر اسماء صفاتیہ میں مظاہر تجلیات اسم الباطن کی سیر ہے۔
_____________________________________________________
۱۔الاعراف ۱۸۰
۲۔ابن ماجہ ص ۲۷۴
۳۔دفتر اوّل مکتوب

No comments:

Post a Comment