Sunday, September 15, 2013

مکتوب اول قسط ۳


متن: علیٰ الخصوص در کِسوتِ نساء بلکہ در اَجزاءِ اینہا جُدا جُدا و آنقدر مُنقادِ اینطائفہ گشتم کہ چہ عرض نمایم و دریں اِنقیاد مضطر بودم ظہوریکہ درین کِسوت بودہ ھیچ جا نبودہ  خصوصیاتِ لطائف و محسناتِ عجائب کہ دریں لباس مینمودہ از ھیچ مظہری ظاہر نمیشدہ پیشِ ایشاں تمام گداختہ آب شدہ میرفتم

ترجمہ: خصوصی طور پر عورتوں کے بھیس میں بلکہ انکے اجزاء میں جُدا جُدا اور اسقدر اس گروہ کا مطیع ہوا کہ کیا عرض کروں؟ اور اس اطاعت میں میں بے اختیار تھایہ ظہور اس لباس میں ہوا تھا ایسا کہیں نہیں ہوا۔ خصوصی حسن اور لطائف کے وہ نظارے اس لباس میں جیدے ظاہر ہوئے کسی ایک مظہر سے ایسا مظاہرہ نہیں ہوا انکے سامنے مکمل پگھلا ہوا خود کو پانی کیطرح محسوس کرتا تھا۔

شرح

مقدمہ کے طور پر یہ امر ذہن نشین رہے کہ صُوفیائے شہودیہ کے نزدیک ممکنات کی حقیقت ، عدمِ محض ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے کائنات بنانے کا ارادہ فرمایا تو عدماتِ محضہ پر اپنی صفات کے ظلال کا انعکاس فرمایا جس سے کائنات وجود میں آگئی لہٰذا ہر ہر فردِ ممکنات میں اللہ تعالےٰ کی کسی نا کسی صفت کے ظِلال کا پَرتو موجود ہے لیکن ہماری مادی نگاہیں اسکے ادراک و احاطہ سے قاصر ہیں۔ البتہ اَولیائے عارفین کی باطنی نگاہیں اس کا ادراک کرلیتی ہیں کیونکہ وہ اللہ کے نُور سے دیکھتی ہیں، جیسا کہ حدیث شاہد ہے۔
اِتَّقُوْا فِرَاسَۃَ الْمُوْمِنِ فَاِنَّہ یَنْظُرُ بِنُوْرِ اللہِ [۱](ترجمہ: مومن کی فراست سے بچو وہ خدا کے نور سے دیکھتا ہے)۔

ظِلال


ظلالِ صفات سے مراد تعلّقاتِ صفات یا تمثالِ صفات ہیں تعلقاتِ صفات کی مثال جیسے علم کا تعلق معلومات کیساتھ اور قدرت کا تعلق مقدورات کیساتھ ہے۔
تمثالِ صفات کی مثال جیسے آئینے میں زید کی صورت، تمثالِ زید ہے بعض اوقات ظلالِ صفات کو مجازی طور پر صفات کے نام سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔

وجوھاتِ تخصیص


متن کی عبارت کے مطابق حضرت امام ربانی قدس سرہ نے سیرِ توحیدِ وجودی کے دوران اشیائے کائنات میں اللہ تعالیٰ کے اسم اَلظَّاھِرُ کی تجلیات کا مشاھدہ فرمایا لیکن خاص طور پر عورتوں کے وجود میں یہ تجلی زیادہ مشہود ہوئی۔ تخصیصِ نساء کی تین ۳ وجوھات ہوسکتی ہیں۔

پہلی وجہ


انسان میں دوطرح کی قوتیں موجود ہیں۔ قوتِ فاعلہ اور قوّتِ منفعلہ۔ قوتِ فاعلہ اثرانداز ہونے کی قوت کا نام ہے اور قوتِ منفعلہ اثر قبول کرنے کی قوت کا نام ہے۔ عورتوں میں اولاد کی تربیت و رضاعت کی اِستعداد سے قوتِ فاعلہ کا اظہار ہوتا ہے اور نُطفہ قبول کرنے کی استعداد سے قوتِ منفعلہ ظاھر ہوتی ہے لہٰذا عورتوں کی فطرت میں فاعلیّت اور اِنفعالیّت کی تاثیر کے غلبہ اور استعداد کی لطافت سے ہی وجہِ تخصیص مفہوم ہوتی ہے۔

دوسری وجہ


ظلالِ صفات کے انعکاس کی جو مختلف الانواع تاثیرات کائنات پر وارد ہوتی ہیں اشیائے کائنات ان تاثیرات کو بقدرِ ظرف و صلاحیت قبول کرتی ہیں چونکہ عورتوں کے وجود میں اَخذ و قبول کی صلاحیت اور اِفادہ و استفادہ  کی استعداد زیادہ موجود ہے لہٰذا اسم اَلظَّاھِرُ کی تجلیات کا عورتوں کے وجود میں زیادہ ظاہر ہونا ایک لازمی اور فطری اَمر ہے۔
حضرت ابنِ عربی رحمۃ اللہ علیہ نے تحریر فرمایا ہے۔

فَشُھُوْدُ الْحَقِّ فِی النِّسَآءِ اَعْظَمُ الشُّھُوْدِ وَاَکْمَلُہ [۲](ترجمہ: عورتکی ذات میں حق تعالیٰ کا شہود،اعظم اور اکمل شہود ہے)۔

تیسری وجہ


عورتوں کے لباس میں اسم الظاہر کی تجلی کا یہ شہود ہمہ وقتی اور دائمی نہ  تھا بلکہ یہ ظہور و شہود ایک خاص حالت اور خاص وقت میں ہوا جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کبھی کوہِ طور میں اور کبھی درخت میں تجلی صوری کا مشاھدہ فرمایا۔ یہ مطلب نہیں کہ آپ مستقل طور پر کوہِ طور یا درخت میں مسلسل یہ تجلی دیکھتے رہے بلکہ ان پر بھی ایک خاص حالت اور خاص وقت میں آنِ واحد کیلئے یہ تجلی مشہود ہے۔
____________________________________________________________________________________
۱ترمذی ص۱۴۰ ج ۲۔ طبرانی کبیر ص ۱۰۲ ج ۸۔
۲فصوص الحُکم کلمہ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم۔

No comments:

Post a Comment