Tuesday, September 17, 2013

مکتوب اوّل قسط ۳ کی شرح

بَیِّنَات


*اس گروہ کا مطیع ہونے اور پگھل جانے سے مراد معاذاللہ مادی یا جنسی محبت نہیں بلکہ غیراختیاری اور فطری محبت مراد ہے اور یہ بھی کسی خاص عورت سے نہیں بلکہ جنسِ عورت سے ہے اور یہ بھی ایک خاص حال کا بیان ہے ذاتی طلب نہیں جیسا کہ اہلِ ظاہر پر ظاہر ہے۔

*قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے

وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا [۱] (ترجمہ: اور اس(آدم) سے اس کا جوڑا(حوا) بنایا تاکہ اس سے راحت حاصل کرے۔)

*دوسری آیت میں ہے۔

وَمِنْ ءَايَـٰتِهِۦٓ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَ‌ٰجًۭا لِّتَسْكُنُوٓا۟ إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةًۭ وَرَحْمَةً ۚ إِنَّ فِى ذَ‌ٰلِكَ لَءَايَـٰتٍۢ لِّقَوْمٍۢ يَتَفَكَّرُونَ [۲](ترجمہ:اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے کہ اُس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس کی عورتیں پیدا کیں تاکہ اُن کی طرف (مائل ہوکر) آرام حاصل کرو اور تم میں محبت اور مہربانی پیدا کر دی جو لوگ غور کرتے ہیں اُن کے لئے ان باتوں میں (بہت سی) نشانیاں ہیں۔)
آیاتِ بالا سے ثابت ہوا کہ مطلق عورت کے وجود سے رغبت اور محبت انسان کی فطرت میں رکھ دینا مشیّتِ ایزدی کا ازلی تقاضا تھا۔ لہٰذا انسان عورت کی ذات سے محبّت پر مجبور بھی ہے اور مامور بھی۔

*قدرت نے عورت کی ذات میں اسم الظاھر کی تجلی کا ایسا نور ودیعت فرمادیا ہے کہ مرد اُس کی دید سے اپنے اندر باطنی طور پر ایک اَن جانی سی مانُوسیّت محسوس کرنے لگتا ہے۔ جیسا کہ حضرت آدم علیہ السّلام حضرت حوا کو اپنے قریب دیکھ کر طبیعتًا اور فطرتًا ان کی طرف راغب و مائل ہوگئے تھے۔ اللہ تعالیٰ کسی دوسری شے سے حضرت حوّا کو پیدا کردینے پر قادر تھا لیکن حوّا کو آپکے جسم کے ایک حصّے سے بنا کر عورت کی محبّت کو مرد کیلئے ذاتی محبّت بنا دیا نیز اس حُبی تعلق کو نکاح کے ساتھ مشروط فرما کر نسبتِ محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوات کو دونوں کے درمیان حدِ فاصل بنا دیا تاکہ دونوں کی روحانی و جسمانی طہارت کا سلسلہ برقرار رہے۔
درج ذیل حدیثِ نبویّہ علیٰ صاحبہا الصلوات اس مضمون کی مویّد ہے۔
حُبِّبَ اِلَیَّ مِنْ دُنْیَاکُمْ ثَلٰثُُ اَلطِّیْبُ وَالنِّسَآءُ وَجُعِلَ قُرَّۃُ عَیْنِیْ فِی الصَّلوٰۃِ [۳](ترجمہ: مجھت تمہاری دنیا سے تین چیزوں کی محبت دی گئی ہے اور وہ خوشبوہے، عورت ہے اور نماز میں میری آنکھوں کی ٹھنڈک رکھدی گئی ہے۔)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیلئے اسماء و صفات کے مظاھر کے مشاھدے کے دوران دُنیا کی پسندیدہ اشیاء میں خوشبو اور نماز کے علاوہ عورت کے وجود میں بھی تجلی اسم الظاھر مشہود ہوئی۔
______________________________________________________________________________
۱۔الاعراف ۱۸۹
۲۔الروم ۲۱
۳۔احیاء العلوم ص۳۱۴ ج ۴

No comments:

Post a Comment