مرتبہ اوّل
کہ عروج واقع شد بعد از طَی مسافت چون بر فوقِ محدِّد رسید دارِ خُلد ازنجا بما تحت مشہود گشت دراں اثناء بخاطر آمد کہ مقاماتِ بعضی مردم را در آنجا مشاھدہ نمایم چون متوجہ شدم مقاماتِ آنہا در نظر آمد و آن اشخاص را نیز دران مجال وید علی تفاوت درجاتھم مکانًا و مکانۃً و شوقاً و ذوقاً
ترجمہ: کہ سفر طے کرنے کے بعد عروج واقع ہوا جب عرش سے اُوپر پہنچا تو وہاں سے جنت نیچے کیطرف نظر آئی اسی دوران دل میں آیا کہ بعض حضرات کے مقامات کا وہاں سے مشاہدہ کروں بس جب میں متوجہ ہوا تو انکے مقامات نظر آنے لگے اور وہ حضرات بھی اپنے اپنے مقام پر اپنے اپنے درجات کیساتھ اور ذوق اور شوق کیساتھ ۔
شرح
حضرت امام ربانی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ جب مجھے پہلی بار فوق العرش عروجِ روحانی نصیب ہوا تو میں نے جنّت کو عرش کے نیچے دیکھا۔ آپکا یہ کشف و شہود فرمانِ نبوی علیٰ صاحبہَا الصلوات کے عین مطابق ہے۔
حدیث میں ارشاد ہے۔ سَقْفُھَا عَرْشُ الرَّحْمَانِ [۱](ترجمہ: عرش جنت کا چھت ہے)
اسی طرح حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے۔
اَلْجَنَّۃُ فَوْقَ السَّمٰوَاتِ تَحْتَ الْعَرْشِ [۲](ترجمہ: جنت آسمانوں کے اوپر عرش کے نیچے ہے)
اور اسی پر اکثریت کا اتفاق منقول ہے۔
بینہ ۱۳
واضح رہے کہ حضرت امام ربانی قدس سرہُ العزیز کے مکشوفات اور مشاہدات علومِ شرعیہ کے عین مطابق ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نسبتِ مجددیہ میں اِتباعِ شریعت اور التزامِ سُنّت کا لحاظ غالب ہے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ عالمِ امر کے پانچوں لطائف کا وطنِ اصلی عرش کے اوپر ہے لہٰذا حکمائے یونان کا یہ قول کہ "عرش سے اوپر کچھ نہیں" باطلِ محض ہے۔

No comments:
Post a Comment